واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے بدھ کے روز دیر گئے ادویات ساز کمپنی موڈرنا (Moderna) کی تیار کردہ ملک کی پہلی mRNA موسمی فلو (انفلوئنزا) ویکسین کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
ایف ڈی اے نے اس ویکسین، جسے mFLUSIVA کا نام دیا گیا ہے، کو 50 سے 64 سال اور 65 سال یا اس سے زائد عمر کے دو گروپس کے لیے منظور کیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (CEO) اسٹیفن بینسل (Stéphane Bancel) کا کہنا تھا کہ فلو ایک بڑا عالمی اور عوامی صحت کا چیلنج ہے اور یہ منظوری سینئر شہریوں کے لیے ایک اہم اور نیا متبادل فراہم کرتی ہے۔
بہتر کارکردگی: آخری مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز کے مطابق، 50 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ ویکسین عام (اسٹینڈرڈ) فلو شاٹ کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔
رواں فلو کے وائرس کی ساخت منتخب ہونے کے بعد اس mRNA ویکسین کی تیاری میں صرف دو سے تین ماہ لگتے ہیں، جو کہ روایتی ویکسینز کی مینوفیکچرنگ کے مقابلے میں آدھا وقت ہے۔ اس سے وائرس کی بدلتی ہوئی اقسام کو وقت پر نشانہ بنانا آسان ہو جائے گا۔
موڈرنا کا کہنا ہے کہ وہ 2026-2027ء کے تنفسی وائرس سیزن کے لیے یہ ویکسین امریکی مارکیٹ میں دستیاب کرنے کی توقع رکھتی ہے۔
اس ویکسین کی منظوری کا سفر بالکل آسان نہیں رہا۔
محکمۂ صحت کے سربراہ کی مخالفت: امریکی ہاؤسنگ اینڈ ہیومن سروسز کے سیکرٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر (RFK Jr.) طویل عرصے سے mRNA ٹیکنالوجی کے ناقد رہے ہیں اور گزشتہ سال انہوں نے اس ریسرچ کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ منسوخ کر دی تھی۔
ایف ڈی اے کا ابتدائی انکار: رواں سال کے آغاز میں ایک سینئر ایف ڈی اے آفیشل نے آزمائشی ٹرائلز کے طریقہ کار کو بنیاد بنا کر اس ویکسین کے جائزے سے انکار کر دیا تھا، تاہم ایک ہفتے بعد دباؤ کے باعث ایجنسی نے اپنا فیصلہ واپس لیا۔
اگرچہ ایف ڈی اے نے گرین سگنل دے دیا ہے، لیکن ابھی اس کی باضابطہ تقسیم کے راستے میں قانونی چیلنجز موجود ہیں۔
سی ڈی سی (CDC) کی ویکسین ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس پر ایک فیڈرل جج نے موجودہ ممبرشپ کے باعث روک لگا رکھی ہے۔ پینل کی سفارش کے بغیر ڈاکٹرز اسے تجویز تو کر سکیں گے، لیکن ممکن ہے کہ ہیلتھ انشورنس کمپنیاں اس کے اخراجات کور نہ کریں۔





