لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ورلڈکپ فائنل میں ہنگامہ آرائی:ارجنٹائنی مڈفیلڈرلیانڈروپاریدیس پر10میچوں کی پابندی کا مطالبہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک/نیو جرسی: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں اسپین کے ہاتھوں ارجنٹائن کی شکست کے بعد میدان میں ہونے والی شدید بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی پر انگلش پریمیئر لیگ کے سابق چیف ریفری کیتھ ہیکیٹ نے فیفا سے سخت ترین ایکشن لینے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے ارجنٹائن کے مڈفیلڈر لیانڈرو پاریدیس کے رویے کو “شرمناک” قرار دیتے ہوئے ان پر کم از کم 10 میچوں کی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک نیو جرسی (میٹ لائف) اسٹیڈیم میں فائنل کا ماحول اس وقت انتہائی کشیدہ ہوا جب اینزو فرنانڈیز کو پاؤ کُبارسی پر فاؤل کرنے پر دوسرا یلو کارڈ دکھا کر میدان بدر کر دیا گیا۔ جیسے ہی ریفری سلاوکو ونچچ نے میچ کے اختتام کی وسل بجائی اور اسپین نے اپنی دوسری عالمی فتح کا جشن منانا شروع کیا، ارجنٹائنی کھلاڑیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔

ارجنٹائن کے کھلاڑی ناہوئیل مولینا نے اسپین کے روڈری کو مکا مار کر ہنگامے کا آغاز کیا، جس کے بعد بوکا جونیئرز کے اسٹار لیانڈرو پاریدیس نے ایرک گارسیہ اور گاوی (Gavi) کو گراؤنڈ کے وسط میں تشدد کا نشانہ بنا کر صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔

‘فٹبال انسائیڈر’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سابق فیفا ریفری کیتھ ہیکیٹ نے پاریدیس اور دیگر ارجنٹائنی کھلاڑیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا:”یہ دنیا کا سب سے بڑا اسٹیج ہے اور جو کچھ لائیو نشر ہوا وہ حد درجہ افسوسناک اور ناقابلِ برداشت تھا۔ میرے خیال میں اس نامناسب رویے پر پاریدیس پر کم از کم 10 بین الاقوامی میچوں کی پابندی لگنی چاہیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ کھیل کی خوبصورتی اس تشدد کی نذر ہو گئی اور اب یہ فیفا کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ سخت فیصلے کر کے نظم و ضبط کی مثال قائم کرے۔

اگر فیفا کیتھ ہیکیٹ کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے پاریدیس پر 10 میچوں کی پابندی عائد کرتی ہے، تو یہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے بڑی سزاؤں میں شمار ہوگی۔

2014: لوئس سواریز کو جیورجیو کیئلینی کو دانت کاٹنے پر 9 بین الاقوامی میچوں کی پابندی اور 4 ماہ کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
1994: اٹلی کے مورو تاسوتی کو لوئس اینریکے کو کہنی مارنے پر 8 میچوں کی پابندی لگی تھی۔
1986: یوراگوئے کے خوسے باٹسٹا کو شدید فاؤلنگ پر 3 میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔