لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ٹرمپ کی سرمایہ کاری اورسوشل میڈیاپوسٹس پرسوالات اٹھ گئے

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آ گئے ہیں۔ معروف امریکی خبر رساں ادارے CNN کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال کے دوران اپنی سوشل میڈیا ایپ Truth Social پر جن بڑی کمپنیوں کی کھل کر تعریف کی یا ان کے لیے سرکاری مراعات کا اعلان کیا، ان پوسٹس سے محض چند دن قبل انہوں نے ان کمپنیوں میں لاکھوں ڈالرز کے حصص (Stocks) خریدے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، اپریل 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر سیمی کنڈکٹر بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی Nvidia کے لیے حکومتی اجازت نامے تیزی سے جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، انہوں نے اپنے 90 لاکھ فالورز کو یہ نہیں بتایا کہ اس پوسٹ سے چند دن قبل ہی انہوں نے نویدیا کے $200,000 سے $500,000 مالیت کے شیئرز خریدے تھے۔

سی این این (CNN) کی تحقیقاتی رپورٹ کے حیرت انگیز انکشافات
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے صدر ٹرمپ کے سالانہ مالیاتی گوشواروں اور ان کی سوشل میڈیا پوسٹس کا موازنہ کیا گیا۔ اس دوران درج ذیل حقائق سامنے آئے:

مثبت تشہیر اور خریداری: ٹرمپ نے کم از کم 21 کمپنیوں کے حصص خریدنے کے ایک ہفتے کے اندر ان کمپنیوں، ان کے مالکان یا ان کی مصنوعات کی تعریف میں ٹروتھ سوشل پر پوسٹس کیں۔

منفی مہم اور شیئرز کی خریداری: حیرت انگیز طور پر، ٹرمپ نے کم از کم 8 کمپنیوں کے شیئرز خریدنے کے فوراً بعد ان کے خلاف منفی یا تنقیدی پوسٹس بھی شیئر کیں۔ ان کمپنیوں میں Comcast اور Microsoft شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے Tesla کے شیئرز میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی۔ مارچ 2025 میں ٹیسلا کے شیئرز خریدنے کے فوراً بعد انہوں نے ایلون مسک کی تعریف کی۔ تاہم، بعد میں جب دونوں کے تعلقات خراب ہوئے تو ٹرمپ نے ٹیسلا کی سبسڈیز ختم کرنے کی دھمکی دی، لیکن 23 جولائی کو ٹیسلا میں $500,000 سے $1,000,000 کی ایک بڑی سرمایہ کاری کرنے کے محض ایک دن بعد انہوں نے اپنا لہجہ نرم کرتے ہوئے پوسٹ کی کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایلون مسک کا کاروبار خوب ترقی کرے۔

اسی طرح انہوں نے Apple، Eli Lilly اور کپڑوں کے مشہور برانڈ American Eagle کے شیئرز خریدنے کے فوراً بعد ان کے حق میں تعریفی پوسٹس شیئر کیں۔

وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ آرگنائزیشن کا دفاع: وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی اور ٹرمپ آرگنائزیشن نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے تمام مالیاتی اثاثے فریقِ ثالث کے آزاد مالیاتی اداروں کے زیرِ انتظام ہیں اور ان کی خرید و فروخت پر صدر ٹرمپ یا ان کے خاندان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

ماہرین اور واچ ڈاگ اداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے گذشتہ صدور کے برعکس اپنے اثاثے کسی Blind Trust (ایسا ٹرسٹ جس کے اثاثوں کی تفصیلات مالک کو معلوم نہیں ہوتیں) میں نہیں رکھے، بلکہ اس ٹرسٹ کے ٹرسٹی ان کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صدر ٹرمپ کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا فنڈ مینیجر کہاں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ناقدین نے اسے مفادات کا واضح ٹکراؤ (Conflicts of Interest) اور اخلاقیات کا جنازہ قرار دیا ہے۔