واشنگٹن/انقرہ (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور یوکرین کے تنازعات سمیت عالمی سیاست پر اب تک کا سب سے بڑا اور سخت ترین مؤقف اپنایا ہے۔
انقرہ میں نیٹو سیکرٹری جنرل کے ہمراہ اور واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے پر یقین نہیں رکھتے اور امریکہ کسی معاہدے کے بغیر بھی ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کی مکمل طاقت رکھتا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا:”میں ایک چھوٹی سی وارننگ دوں گا، ہم آج رات ایران پر سخت حملہ کرنے والے ہیں۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے اور ایرانی جوہری تنصیبات سے متعلق ہمارا مؤقف دو ٹوک ہے۔”
ڈونلڈ ٹرمپ نے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات امریکہ نے ایران کے انتہائی خطرناک عناصر کو بھرپور طاقت کے ساتھ نشانہ بنایا اور ایران کے 28 طیارے تباہ کیے گئے، جبکہ آج مزید طیاروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے اہم ‘خارگ جزیرے’ پر حملہ کیا ہے اور امریکہ چاہے تو اس جزیرے پر قبضہ بھی کر سکتا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی تمام پرانی قیادت اور اس کی نیوی و فوج کو ختم کر دیا ہے، اب وہاں تمام نئے لوگ ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے بجلی اور پانی کے منصوبوں کو بھی تباہ کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کے ایرانی جوہری معاہدے کو تاریخ کا بدترین معاہدہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اوباما نے ایران کو اربوں ڈالر فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں سعودی عرب اور قطر کے جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور ہمارے ہزاروں فوجیوں کی جانیں لیں، اس لیے اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔
اپنی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بڑا دعویٰ کیا کہ انہوں نے ماضی میں آٹھ جنگیں ختم کرائیں، جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے آذربائیجان کے طویل تنازع اور کانگو کے حوالے سے بھی امن معاہدے کرانے میں اپنا اہم کردار اجاگر کیا۔
یوکرین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کیونکہ پسِ پردہ کئی معاملات پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور آج بھی ان سے بات چیت ہوگی۔ ٹرمپ کے مطابق پیوٹن کی جنگ ختم کرنے کی شرائط بدل رہی ہیں اور روس دوبارہ یوکرین پر حملہ نہیں کرنا چاہے گا۔
امریکی صدر نے یوکرین میں امریکی مفادات بالخصوص معدنی وسائل کا اعتراف کیا اور اعلان کیا کہ امریکہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بنانے کا لائسنس دینے کے ساتھ ساتھ یوکرینی ڈرونز خریدنے کا بڑا معاہدہ بھی کرنے جا رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ بندی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کو شاندار قرار دیا لیکن ساتھ ہی گلہ کیا کہ نیٹو نے ایران کے معاملے پر امریکہ کی مدد نہیں کی اور امریکہ کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے ترکیہ کے بارے میں کہا کہ انقرہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا لیکن میں نے انہیں روکا۔ اس کے برعکس انہوں نے اسپین کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے اپنے وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ اسپین کے ساتھ تمام تجارتی روابط ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔





