لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ٹرمپ پالیسیوں کاردِعمل: کینیڈین شہریوں کے امریکہ سفرمیں25 فیصدکمی،2.3 ارب ڈالرزکابڑا معاشی نقصان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

اوٹاوا / واشنگٹن (ویب ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے اقتدار اور ان کی ”امریکہ فرسٹ“ پالیسیوں کے نتیجے میں کینیڈین شہریوں نے امریکہ کا رخ کرنا کم کر دیا ہے۔

‘اسٹیٹسٹکس کینیڈا’ (Statistics Canada) کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کینیڈا کے شہریوں نے امریکہ کے دوروں پر تقریباً 2.3 ارب ڈالرز کم خرچ کیے، جبکہ سفر کے رجحان میں مجموعی طور پر 25 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

کینیڈا کے قومی شماریاتی ادارے کے مطابق 2025 کے اوائل میں ٹرمپ حکومت کی واپسی، کینیڈا پر تجارتی ٹیرف (Tariffs) کی عائدگی اور کینیڈا کو ”51ویں امریکی ریاست“ بنانے کے متنازع بیانات کے بعد کینیڈین شہریوں کے رویوں میں شدید تبدیلی آئی۔ اس کے نتیجے میں مسلسل 11 مہینوں تک امریکہ سے واپسی کے سفر میں کمی دیکھی گئی، جو کہ کورونا وبا کے بعد کی سب سے بڑی اور طویل ترین کمی ہے۔

سرحدی اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے مقابلے میں 2025 کے دوران کینیڈین شہریوں نے امریکہ کے 10 ملین (ایک کروڑ) کم دورے کیے۔

تفریحی اخراجات میں کمی: کینیڈینز نے امریکہ میں تفریحی دوروں پر $1.6 ارب کم خرچ کیے۔

دیگر ممالک کی طرف سفر: کینیڈین شہریوں نے امریکہ جانے کے بجائے اپنے ملک کے اندر یا دیگر غیر ملکی (Overseas) مقاصد کے لیے سفر کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں دیگر ممالک میں ان کے تفریحی اخراجات میں 2.5 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا۔

پیو ریسرچ کا سروے: 2025 میں کینیڈینز کے دلوں میں امریکہ کی مقبولیت 2002 کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر آ گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2026 کے ابتدائی اعداد و شمار میں کچھ بہتری آئی ہے۔ مئی میں کینیڈینز نے امریکہ کے 2.6 ملین دورے کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں۔ امریکی سیاحتی انڈسٹری کو امید ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے انعقاد سے اس رفتار میں مزید اضافہ ہوگا۔

تاہم سیاسی کشیدگی اب بھی برقرار ہے، کیونکہ پچھلے ہی ہفتے صدر ٹرمپ نے کینیڈین مصنوعات پر اضافی 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے سفارتی و تجارتی تعلقات میں مزید کھنچاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔