لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

Canada’s New Law Sparks Surge in Citizenship Applications Across United States

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن/اوٹاوا: کینیڈا کے شہریت کے قوانین میں ہونے والی ایک حالیہ اور اہم تبدیلی نے لاکھوں امریکیوں کے لیے کینیڈین شہریت کے دروازے کھول دیے ہیں۔

نئے قانون کے تحت اب ایسے تمام افراد کینیڈا کی شہریت حاصل کر سکتے ہیں جن کے آباؤ اجداد (دادا دادی، پردادا پردادی یا اس سے بھی پیچھے) کینیڈین شہری تھے۔

اس سے قبل کینیڈا میں شہریت صرف ایک نسل (والدین سے بچوں تک) منتقل ہو سکتی تھی، لیکن 15 دسمبر سے نافذ العمل ہونے والے نئے قانون نے اس شرط کو ختم کر دیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد امریکہ میں موجود کینیڈین نژاد خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور امیگریشن وکلا کے پاس درخواستوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔

15 دسمبر سے پہلے پیدا ہونے والے افراد اگر اپنے کسی بھی کینیڈین جدِ امجد سے براہ راست تعلق ثابت کر دیں تو وہ پیدائشی طور پر کینیڈین شہری تصور کیے جائیں گے۔

بہت سے امریکی شہری موجودہ سیاسی حالات، ملازمت کے مواقع اور مستقبل کے تحفظ کے پیشِ نظر کینیڈین پاسپورٹ حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

شہریت کی تصدیق کی سرکاری فیس محض 75 کینیڈین ڈالرز ہے، تاہم شجرہ نسب اور دستاویزات کی تیاری کے لیے وکلا یا ماہرین کی خدمات لینے پر اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اس وقت 56,000 سے زائد درخواستیں زیرِ التوا ہیں اور سرٹیفکیٹ ملنے میں تقریباً 10 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون ان لوگوں کے لیے ایک “تحفہ” ہے جو برسوں سے کینیڈا کے ساتھ اپنے خاندانی تعلق کو قانونی شکل دینا چاہتے تھے۔