اوٹاوا / واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ سخت تجارتی شرائط اور ٹیرف کے جواب میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی (Mark Carney) نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا بھی امریکی اقدامات کا “ڈالر کے بدلے ڈالر” (Dollar for Dollar) کی بنیاد پر بھرپور جواب دے گا۔
جمعہ کی رات کی طے شدہ ڈیڈ لائن تک دونوں اتحادی ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پانے میں ناکامی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سنگین ترین تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔
50 امریکی صدر نے کینیڈا کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات متاثر ہوں گی۔
وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے مذاکرات کاروں کو واشنگٹن سے واپس بلا لیا اور کہا کہ کینیڈا اپنے ورکرز اور کاروبار کے تحفظ کے لیے بالکل اتنے ہی ڈالر کا جوابی ٹیرف عائد کرے گا۔
کینیڈین وزیراعظم نے امریکی تجویز کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے آخری لمحات میں ایسی شرائط شامل کیں جن پر اتفاق ممکن نہیں تھا۔ دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر (Jamieson Greer) نے کینیڈا پر زائد مطالبات کے ذریعے معاہدہ ناکام بنانے کا الزام عائد کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکہ کی “51 ویں ریاست” بنانے جیسے بیان بازی اور تجارتی دباؤ کے بعد کینیڈا میں شدید عوامی غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے بھی وزیراعظم کارنی کے جوابی ٹیرف کے فیصلے کی مکمل حمایت کی ہے۔





