لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

عالمی شہرت یافتہ کےپاپ گروپBTSنے2027 گرامیزکابائیکاٹ کردیا،بھارتی موسیقارسلیم مرچنٹ کی تائید

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

دبئی / لاس اینجلس (ویب ڈیسک): ریکارڈنگ اکیڈمی (Recording Academy) کی جانب سے 69 ویں گرامیز کے لیے نئی ’بیسٹ ایشین پاپ میوزک پرفارمنس‘ (Best Asian Pop Music Performance) کیٹیگری متعارف کرائے جانے کے محض ایک ماہ بعد، دنیا کے سب سے مقبول کے پاپ گروپ بی ٹی ایس (BTS) نے گرامیز 2027 کے لیے اپنا میوزک جمع نہ کرانے (بائیکاٹ) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

گروپ کے تمام ساتوں ارکان (آر ایم، جن، شوگا، جے ہوپ، جمن، وی اور جونگ کوک) نے 29 جولائی کو اپنے انفرادی انسٹاگرام اکاؤنٹس پر ایک ہی بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے نئے کم بیک البم ’ARIRANG‘ کو اس سال گرامیز کی نامزدگیوں کے لیے پیش نہیں کریں گے۔

بی ٹی ایس نے اپنے بیان میں لکھا:”ہم نے اس سال گرامیز میں اپنا میوزک جمع نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ موسیقی کو اس کے اصل معیار پر سنا اور پسند کیا جائے گا، نہ کہ اسے علاقائی یا زبان کی بنیاد پر الگ تھروگ کیا جائے گا۔“

ریکارڈنگ اکیڈمی کی جانب سے پیش کی گئی نئی کیٹیگری کا مقصد ایشیائی زبانوں اور ایشیائی مارکیٹ سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کو سراہنا تھا، لیکن بی ٹی ایس نے اسے میوزک کو الگ تھلگ کرنے اور برابری کا درجہ نہ دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال جولائی میں فیفا ورلڈ کپ فائنل کے ہاف ٹائم شو میں شاندار پرفارمنس دینے والے اس گروپ کا 3 سال مسلسل ‘بیسٹ پاپ ڈوئو/گروپ پرفارمنس’ میں نامزد ہونے کے باوجود ایک بار بھی ایوارڈ نہ جیت پانا، اور ان کے کورین زبان کے کام کو صرف کولڈ پلے (Coldplay) کے ساتھ کولابوریشن کے ذریعے ہی تسلیم کیا جانا اس تحفظات کی بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے۔


ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے معروف بھارتی موسیقار سلیم مرچنٹ نے کہا کہ انہیں بی ٹی ایس کے اس فیصلے پر ذرا بھی حیرت نہیں ہوئی۔

سلیم مرچنٹ نے کھل کر موقف اپنایا ”گرامیز کا پورا نظام امریکی فنکاروں کو ترجیح دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ غیر امریکی فنکاروں کے مرکزی کیٹیگریز (Main Categories) میں جیتنے کے امکانات انتہائی محدود ہوتے ہیں، اور باقی تمام دنیا کے میوزک کو صرف ’ورلڈ میوزک‘ یا چھوٹی کیٹیگریز تک محدود کر دیا جاتا ہے۔“

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اے آر رحمان کو ‘سلم ڈاگ ملینئیر’ پر ایوارڈز اس لیے ملے کیونکہ ان کی امریکہ میں ایک بڑی ایجنسی نمائندگی کر رہی تھی، جبکہ رکی کیج (Ricky Kej) نے امریکی اکیڈمی ممبر اسٹوئرٹ کوپ لینڈ کے ساتھ مل کر کام کیا، جس سے ان کی نامزدگی آسان ہوئی۔ سلیم مرچنٹ کے مطابق دنیا کے دیگر خطوں کے فنکاروں کو اس پیچیدہ نظام اور ووٹنگ کے طریقے کار کی سمجھ ہی نہیں ہے۔


بی ٹی ایس کے اس فیصلے پر ریکارڈنگ اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹیو ہاروی میسن جونیئر (Harvey Mason Jr.) نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”مجھے بی ٹی ایس کے اس فیصلے پر دکھ ہوا ہے لیکن ایک میوزک کریئیٹر ہونے کے ناطے میں ان کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔ ایشین پاپ کیٹیگری کا مقصد کسی کو الگ تھلگ کرنا نہیں بلکہ ایشیا کے عظیم فنکاروں پر توجہ مبذول کرانا ہے۔ کسی بھی علاقائی کیٹیگری میں شامل ہونے سے فنکار کا مین کیٹیگریز میں جانے کا راستہ بند نہیں ہوتا۔“

تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق بی ٹی ایس جیسے دنیا کے سب سے بڑے میوزک بینڈ کا گرامیز سے الگ ہونا، ریکارڈنگ اکیڈمی کی ساکھ اور وقار کے لیے ایک بہت بڑا تجارتی و معنوی دھچکا ہے۔