کینبرا: آسٹریلوی حکومت نے دفاعی قیادت میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوائل کو ملک کی نئی چیف آف آرمی مقرر کر دیا ہے۔ آسٹریلوی فوج کی 125 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی خاتون کو اس اعلیٰ ترین عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق، لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوائل جولائی 2026 میں اپنا عہدہ سنبھالیں گی۔ وہ موجودہ آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل سائمن اسٹوارٹ کی جگہ لیں گی۔
55 سالہ سوزن کوائل کا فوجی کیریئر تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہے۔ وہ افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگی آپریشنز کے دوران اہم کمانڈ پوزیشنز پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔
وہ سائبر وارفیئر (Cyber-warfare) اور جوائنٹ کیپبلٹیز کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آسٹریلوی دفاعی افواج (ADF) کے لیے ایک نیا سنگ میل ہے۔ وزیرِ دفاع رچرڈ مارلس کا کہنا تھا کہ سوزن کی کامیابی ان تمام خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے جو فوج میں خدمات انجام دے رہی ہیں یا مستقبل میں اس کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔
یہ تقرری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آسٹریلوی فوج جدید ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے ساتھ بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔
اس وقت آسٹریلوی فوج میں خواتین کا تناسب 21 فیصد ہے، جسے 2030 تک 25 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
آسٹریلوی فوج کو جنسی ہراسانی اور امتیازی سلوک کے حوالے سے سنگین الزامات اور قانونی چارہ جوئی کا بھی سامنا ہے، جس سے نمٹنا نئی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔





