لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

مشیگن کے سنسنی خیزمقابلےمیں سائنسی و عوام پسندرہنماعبدالسید نےڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری جیت لی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

ڈیٹرائٹ (ویب ڈیسک): امریکی ریاست مشی گن میں ہونے والے شدید مقابلے کے بعد ترقی پسند (پروگریسو) رہنما اور سابق پبلک ہیلتھ آفیشل عبدالسید (Abdul El-Sayed) نے این بی سی نیوز کے تخمینے کے مطابق ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری کا انتخاب جیت لیا ہے۔

انہوں نے اپنی قریبی حریف اور نمائندہ ایوان (کانگریس وومن) ہیلی سٹیونز (Haley Stevens) کو شکست دے کر مڈ ویسٹ میں ترقی پسندوں کی ایک بڑی کامیابی درج کرا دی ہے۔

عبدالسید نے خارجہ ذرائع کے تقریباً 6.5 کروڑ (65 ملین) ڈالر کے فنڈز اور پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے شدید ترین دباؤ کے باوجود یہ فتح حاصل کی۔ پرائمری کے آخری ایام میں مشی گن کی مقبول گورنر گریچن وٹمر (Gretchen Whitmer) اور موجودہ سینیٹر گیری پیٹرز نے ہیلی سٹیونز کی حمایت کا اعلان کیا تھا، تاہم عبدالسید نے عوامی لہر کے بل بوتے پر انہیں شکست دے دی۔

نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں عبدالسید کا مقابلہ سابق ریپبلکن نمائندے مائیک راجرز (Mike Rogers) سے ہوگا، جنہوں نے بغیر کسی مقابلے کے اپنی پارٹی کی نامزدگی حاصل کی ہے۔ امریکی سینیٹ میں اکثریتی کنٹرول کا فیصلہ کرنے کے لیے اس نشست پر ہونے والے مقابلے کو انتہائی اہم اور کانٹے دار قرار دیا جا رہا ہے۔

شکست کے بعد ہیلی سٹیونز نے عبدالسید کو فون کر کے فتح کی مبارکباد دی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اتحاد و یکجہتی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: “ہمیں یہ سینیٹ نشست جیتنی ہے تاکہ ہم سینیٹ میں ٹرمپ کے صحت کی دیکھ بھال میں کٹوتیوں اور مہنگائی کے اقدامات کے خلاف مل کر کام کر سکیں।”

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے مائیک راجرز کی حمایت کی ہے، نے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ عبدالسید جیسے سوشلسٹ رہنما “شہروں کو تباہ کر دیں گے”۔ اگرچہ عبدالسید باضابطہ طور پر ڈی ایس اے (DSA) کا حصہ نہیں ہیں، لیکن انہیں سینیٹر برنی سینڈرز اور نمائندہ ایلیگزینڈریا اوکاسیو کوٹیز (AOC) جیسی اہم شخصیات کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

عبدالسید کی مہم کی بنیاد ان کے اہم منشور پر تھی، جس میں “میڈیکوئیر فار آل” (تمام امریکیوں کے لیے مفت صحت کی سہولیات) کا مطالبہ،

سیاست میں کارپوریٹ پیسوں کی سخت مخالفت اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دینا اور ہیلی سٹیونز کی اسرائیل نواز لابی (AIPAC) سے مالی حمایت لینے پر شدید تنقید شامل تھی۔

مشی گن میں عرب اور مسلم ووٹروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے عبدالسید کے ان موقف نے انتخاب کے نتائج پر گہرا اثر مرتب کیا۔