لندن: برطانوی دارالحکومت لندن کے تاریخی مرکز ‘ٹریفلگر اسکوائر’ میں رمضان ٹینٹ پروجیکٹ (RTP) کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان افطار دسترخوان سجایا گیا، جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے تقریباً 3,000 مہمانوں نے شرکت کی۔
یہ تقریب رمضان فیسٹیول 2026 کے آخری ہفتے کی مناسبت سے منعقد کی گئی، جو مغربی دنیا کے بڑے ‘اوپن افطار’ پروگراموں میں سے ایک بن چکا ہے۔ اس موقع پر میئر لندن صادق خان نے نہ صرف مہمانوں کے ساتھ روزہ افطار کیا بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے لوگوں میں افطاری بھی تقسیم کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر صادق خان نے کہا:”لندن ایک ایسا شہر ہے جہاں ہر کسی کے لیے جگہ ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہو۔ ٹریفلگر اسکوائر میں یہ اجتماع لندن کے تنوع اور اتحاد کی علامت ہے۔”
انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں لندن کی مختلف مذہبی تقریبات (ایسٹر، دیوالی، بیساکھی اور حنوکاہ) کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے پیغام دیا کہ لندن ہمیشہ تقسیم کے مقابلے میں اتحاد (#UnityOverDivision) کو ترجیح دے گا۔
تقریب کے دوران صادق خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان پر کیے جانے والے حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے ان پر طنز بھی کیا۔ یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں صادق خان کو ‘نااہل’ قرار دیا تھا اور لندن کے حوالے سے متنازع بیانات دیے تھے۔ صادق خان نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لندن کی رونقیں اور یہاں کا امن ان ناقدین کے لیے بہترین جواب ہے۔
قاری یحییٰ علی نے اپنی خوبصورت آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کی۔ معروف فنکار سیف آدم نے نشید پیش کر کے سماں باندھ دیا۔
اس سال کے رمضان فیسٹیول کا تھیم “امید” (Hope) رکھا گیا تھا، جو موجودہ عالمی حالات میں انسانیت کو جوڑنے کی ایک کوشش ہے۔
رمضان ٹینٹ پروجیکٹ کے بانی عمر صالحہ نے اس موقع پر کہا کہ یہ تقریب اجنبیوں کو دوستوں میں بدلنے کا ایک ذریعہ ہے اور ٹریفلگر اسکوائر میں ہونے والا یہ اجتماع پوری دنیا کو محبت کا پیغام دیتا ہے۔





