بیجنگ (ویب ڈیسک): چین کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈیپ سیک ایک سال سے زائد عرصے کے بعد اس ہفتے اپنا نیا فلیگ شپ اے آئی ماڈل متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے ذریعے کمپنی چیٹ جی پی ٹی اور جیمینائی جیسے امریکی اے آئی پلیٹ فارمز کے ساتھ مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
کمپنی کا پہلا بڑا لارج لینگویج ماڈل جنوری 2025 میں متعارف کرایا گیا تھا، جس نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی اور امریکا میں ایپ چارٹس میں سرفہرست آ گیا تھا۔ اس پیش رفت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ٹیکنالوجی صنعت کے لیے ایک “ویک اپ کال” قرار دیا تھا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ڈیپ سیک کا نیا V4 ماڈل ملٹی موڈل صلاحیتوں کا حامل ہوگا، یعنی یہ بیک وقت متن، تصاویر اور ویڈیوز تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
رائٹرز کے مطابق ہانگژو میں قائم اس اسٹارٹ اپ نے اپنی نئی ٹیکنالوجی امریکی چِپ ساز کمپنیوں، جیسے این ویڈیا، کے ساتھ شیئر کرنے کے بجائے مقامی سپلائرز کے ساتھ شراکت داری کو ترجیح دی ہے، جن میں ہواوے بھی شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ٹیکنالوجی صنعت کے روایتی طریقہ کار سے مختلف ہے، کیونکہ عام طور پر نئے اے آئی ماڈلز کو ہارڈویئر کمپنیوں کے ساتھ اس لیے شیئر کیا جاتا ہے تاکہ سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کے درمیان مکمل مطابقت کو یقینی بنایا جا سکے۔





