نیویارک: نیویارک سٹی کونسل میں ایک نیا قانون متعارف کروانے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کے تحت شہر کی انتظامیہ اور امیگریشن نافذ کرنے والے وفاقی اداروں کے درمیان تمام کاروباری معاہدے ختم کیے جا سکتے ہیں۔
کونسل ممبر شیکھر کرشنن کی جانب سے پیش کردہ بل “انٹرو 2026-0261” کے مطابق، نیویارک سٹی کو ہوم لینڈ سیکورٹی (DHS) اور امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (ICE) جیسے اداروں کے ساتھ نئے معاہدے کرنے سے روک دیا جائے گا۔ مزید برآں، یہ بل شہر میں پہلے سے موجود تمام فعال معاہدوں کو بھی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
نیویارک سٹی کے کامپٹرولر مارک لیون نے بھی اس سے قبل ہوم لینڈ سیکورٹی اور ڈیٹا اینالیٹکس کمپنی ‘پلانٹیر ٹیکنالوجیز’ کے درمیان ہونے والے کاموں کی نگرانی کا مطالبہ کیا تھا۔
غیر منافع بخش تنظیم ‘ڈاکومینٹڈ’ (Documented) کے مطابق، کم از کم آٹھ نجی کمپنیاں اس وقت آئی سی ای (ICE) اور نیویارک سٹی کے اداروں کے ساتھ فعال معاہدوں پر کام کر رہی ہیں۔ یہ بل خصوصی طور پر شہر کو معاوضے کے بدلے امیگریشن اداروں کو اشیاء یا خدمات فراہم کرنے سے روکے گا۔ یہ اہم بل 9 مارچ کو سٹی کونسل کے فلور پر پیش کیا جائے گا۔
