Columbia Student Released After Mamdani-Trump Intervention

کولمبیا یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بھی اس خبر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ المینا کی گھر واپسی پر "انتہائی پرسکون اور پرجوش" ہیں۔

Editor News

نیویارک : کولمبیا یونیورسٹی کی طالبہ المینا آغایوا (Elmina Aghayeva)، جنہیں جمعرات کی صبح وفاقی امیگریشن حکام (ICE) نے حراست میں لیا تھا، رہا کر دی گئی ہیں۔ ان کی رہائی میئر زہران ممدانی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان براہِ راست رابطے کے بعد عمل میں آئی۔

المینا آغایوا نے سوشل میڈیا پر اپنی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جمعرات کی سہ پہر تقریباً 3:45 بجے رہا ہوئیں۔ انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا:

“میں محفوظ اور ٹھیک ہوں… جو کچھ ہوا اس پر میں ابھی صدمے میں ہوں۔ مجھے ان حالات کو سمجھنے کے لیے تھوڑا وقت چاہیے، میں جلد واپس آؤں گی۔”

کولمبیا یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بھی اس خبر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ المینا کی گھر واپسی پر “انتہائی پرسکون اور پرجوش” ہیں۔

طالبہ کی گرفتاری اس وقت ایک سیاسی موڑ اختیار کر گئی جب میئر زہران ممدانی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا۔

ممدانی کے مطابق، ملاقات کے کچھ دیر بعد صدر ٹرمپ نے انہیں فون پر مطلع کیا کہ طالبہ کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے گا۔

میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے صدر کے سامنے طالبہ کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

گرفتاری کے پیچھے اصل وجہ کیا تھی؟
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے ترجمان کے مطابق المینا آغایوا کا تعلق آذربائیجان سے ہے۔ان کا اسٹوڈنٹ ویزا 2016 میں اوباما انتظامیہ کے دور میں کلاسز میں عدم حاضری کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ بلڈنگ مینیجر اور روم میٹ نے اہلکاروں کو اپارٹمنٹ میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔

دوسری جانب، المینا کے وکلاء نے دعویٰ کیا ہے کہ امیگریشن اہلکاروں کے پاس کوئی وارنٹ نہیں تھا اور وہ “لاپتہ شخص کی تلاش” کا بہانہ بنا کر گھر میں داخل ہوئے۔

المینا کی گرفتاری کے خلاف کولمبیا یونیورسٹی کے کیمپس میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ یونیورسٹی کی قائم مقام صدر کلیئر شپ مین نے اس واقعے کو “ناقابل قبول اور خوفناک” قرار دیا۔ یاد رہے کہ 2025 میں بھی کولمبیا کے ایک فلسطینی کارکن طالبہ محمود خلیل کو اسی طرح حراست میں لیا گیا تھا، جنہیں تین ماہ تک قید رکھا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *