Oil Prices Surge 9% as Iran Conflict Disrupts Global Energy Supply

ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگر کشیدگی فوری کم نہ ہوئی تو پیٹرول، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے پہلے سے مہنگائی کے ستائے عوام کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔

Editor News

نیویارک/ دبئی: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور جواب میں ایرانی میزائل باری کے بعد عالمی توانائی کی سپلائی لائن درہم برہم ہو گئی ہے۔ پیر کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد تک کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ 72.79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح عالمی معیار کے حامل برینٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمت 9 فیصد اضافے کے بعد 79.41 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جو گزشتہ سات ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی ‘آبنائے ہرمز’ میں کشیدگی کے باعث بحری جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ دنیا کی کل سمندری تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگرچہ راستہ مکمل بند نہیں ہوا، لیکن انشورنس کے مسائل اور حملوں کے خوف سے ٹینکرز دونوں اطراف قطاروں میں کھڑے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس تعطل سے روزانہ 15 ملین بیرل تیل کی ترسیل رک گئی ہے۔

اسٹاک مارکیٹس پر اثرات:
جنگ کے سائے میں عالمی مالیاتی منڈیاں بھی لرز اٹھی ہیں۔

جاپان: نکی انڈیکس میں 1.3 فیصد کمی۔

ایشیا: ایشیا پیسیفک شیئرز میں 1.2 فیصد گراوٹ۔

مشرقِ وسطیٰ: متحدہ عرب امارات (UAE) اور کویت نے “غیر معمولی حالات” کے پیشِ نظر اپنی اسٹاک مارکیٹس عارضی طور پر بند کر دیں۔

یورپ و امریکہ: وال اسٹریٹ، DAX اور FTSE فیوچرز میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ امریکی مقاصد کے حصول تک حملے جاری رہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب، صورتحال کو سنبھالنے کے لیے سعودی عرب، روس اور متحدہ عرب امارات سمیت 8 ممالک نے اپریل سے تیل کی پیداوار میں 206,000 بیرل یومیہ اضافے کا اعلان کیا ہے تاکہ عالمی قلت کو دور کیا جا سکے۔

ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگر کشیدگی فوری کم نہ ہوئی تو پیٹرول، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے پہلے سے مہنگائی کے ستائے عوام کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *