نیویارک: نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی (Zohran Mamdani) کی جانب سے پیش کردہ بجٹ اعداد و شمار نے شہر کے سیاسی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ محض دو ہفتے قبل بجٹ میں 12 ارب ڈالر کے ’تباہ کن‘ خسارے کا اعلان کرنے والے میئر نے اب انکشاف کیا ہے کہ یہ خسارہ کم ہو کر 7 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔
ریاستی قانون ساز اسمبلی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے میئر ممدانی نے بتایا کہ وال اسٹریٹ بونسز، اقتصادی صورتحال میں بہتری اور بچت کے سخت منصوبوں کی وجہ سے خسارے میں 5 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔ تاہم، سٹی ہال کے اندرونی ذرائع اور ماہرین اس ’معجزاتی‘ تبدیلی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
بجٹ کی صورتحال بہتر ہونے کے باوجود، میئر ممدانی اب بھی لاکھوں ڈالر کمانے والے شہریوں پر انکم ٹیکس میں 2 فیصد اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔ گورنر کیتھی ہوچل اور دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ میئر جان بوجھ کر اعداد و شمار کے ساتھ کھیل رہے ہیں تاکہ اپنے اشتراکی (Socialist) ایجنڈے اور نئے ٹیکسوں کو جائز قرار دے سکیں۔
بجٹ ڈائریکٹر شریف سلیمان کے مطابق، موجودہ سال کی آمدنی کے اندازے میں 2.4 ارب ڈالر کی کمی دکھائی گئی تھی جو اب پوری ہو چکی ہے، جبکہ اگلے سال کی آمدنی میں 4.8 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سب سیاسی شعبدہ بازی ہے تاکہ عوامی پیسے کو من پسند منصوبوں پر خرچ کیا جا سکے۔
