نیویارک(ویب ڈیسک): امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) نے شہر بھر میں حساس مقامات، مذہبی مراکز اور ثقافتی مقامات پر گشت میں اضافہ کر دیا ہے۔
نیویارک پولیس کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر جاری ایک بیان میں کہا، “اپنے پروٹوکول کے مطابق اور احتیاطی تدابیر کے طور پر، ہم شہر بھر کے حساس مقامات بشمول سفارتی، ثقافتی اور مذہبی مراکز پر سیکیورٹی پیٹرولنگ بڑھا رہے ہیں۔” اگرچہ شہر کو براہِ راست کوئی خطرہ نہیں ہے، تاہم بین الاقوامی کشیدگی کے پیشِ نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران میں “بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں” کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھے ہوئے تھا اور ایسے میزائل تیار کر رہا تھا جو امریکہ تک پہنچ سکتے تھے۔ ہفتے کے روز ہونے والے ابتدائی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کے قریبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب، جنگی کارروائی کے خلاف نیویارک کے شہریوں نے آواز اٹھانا شروع کر دی ہے۔ ‘دی پیپلز فورم’ نامی تنظیم کے تحت ہفتے کی دوپہر ٹائمز اسکوائر میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی کال دی گئی ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ “امریکہ اور اسرائیل ایران پر بلا اشتعال اور غیر قانونی بمباری کر رہے ہیں، یہ جنگ صرف اشرافیہ اور تیل کمپنیوں کے مفاد میں ہے۔”
