نیویارک (ویب ڈیسک): جیفری ایپسٹین کیس کی تحقیقات میں سابق صدر بل کلنٹن کی پیشی کے بعد امریکی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ ریپبلکنز کی جانب سے سابق صدور کو طلب کرنے کی اس نئی روایت کا رخ اب ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کی طرف مڑ سکتا ہے۔
ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ ممبر، رابرٹ گارسیا نے چپا کوا (NY) میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلکنز نے بل کلنٹن کو طلب کر کے ایک ایسی مثال (Precedent) قائم کر دی ہے جس کے تحت اب ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ سے بھی ان کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر پوچھ گچھ کی جا سکے گی۔
رابرٹ گارسیا، جو نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جیت کی صورت میں کمیٹی کے چیئرمین بن سکتے ہیں، نے واضح کیا کہ اگر ڈیموکریٹس دوبارہ اقتدار میں آئے تو وہ پہلے ہی دن ان تمام افراد کو سب پینا (Subpoena) جاری کریں گے جن کے ایپسٹین سے تعلقات تھے۔ انہوں نے کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ ٹرمپ اور سابق خاتون اول حلف کے تحت کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔”
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران بل کلنٹن کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کلنٹن کو اس حال میں دیکھ کر خوش نہیں ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیموکریٹس کی جیت کی صورت میں انہیں “تیسرے مواخذے” (Third Impeachment) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بل کلنٹن کی بند کمرہ پیشی امریکی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کسی سابق صدر کو کانگریس کے سامنے گواہی دینے پر مجبور کیا گیا ہے۔
