نیویارک: بدھ کے روز ہونے والے ایک ہاؤس فل اجلاس میں والدین نے مونٹکلیئر اسکول ڈسٹرکٹ کے اُس منصوبے پر سخت تشویش کا اظہار کیا جس کے تحت 2025–2026 کے بجٹ کو متوازن کرنے کے لیے عملے اور خدمات میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔
والدین میں شامل ایمی ہیچر-پارسنز نے کہا،
“ہم سب جانتے ہیں کہ مونٹکلیئر میں ٹیکس پہلے ہی بہت زیادہ ہیں اور ہمارے بچے اس سے بہتر کے مستحق ہیں۔ بہت سے بچے اپنے اساتذہ میں تبدیلیوں سے متاثر ہوں گے۔”
نیو جرسی میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والوں میں شمار ہونے کے باوجودجو سالانہ اوسطاً 22 ہزار ڈالر سے زائد بنتے ہیں ضلع کو 19.6 ملین ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے، اور حکام اب تک واضح نہیں کر سکے کہ یہ مالی بحران کیسے پیدا ہوا۔
مونٹکلیئر ایجوکیشن ایسوسی ایشن کے مطابق 103 عملے کے ارکان کی ملازمتیں اس سال کے اختتام تک ختم ہونے والی تھیں۔ تاہم اب ضلع نے ان میں سے تقریباً 20 پوزیشنیں بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں نرسیں اور نصاب کی معاونت کرنے والے اساتذہ شامل ہوں گے۔
ضلع کا ابتدائی حل پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ تھا، لیکن ایک جج نے بیلٹ کے سوالات کو “گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے پوری ووٹنگ منسوخ کر دی۔
سپرنٹنڈنٹ روتھ ٹرنر کا کہنا ہے کہ ریاست سے توقع کردہ 15 ملین ڈالر کی امداد مارچ میں ہونے والے خصوصی انتخابات تک پے رول چلانے میں مدد دے گی۔
انہوں نے کہا:“یہ نئی رقم نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہمارے خسارے کو ختم کرتی ہے۔ یہ صرف مارچ تک ہمارے نقد بہاؤ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔”
اگر ووٹرز مارچ میں ٹیکس بڑھانے کی تجویز کو مسترد کر دیتے ہیں تو ریاست براہِ راست مداخلت کرے گی۔
مالی دباؤ میں اضافے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ماہ اسکول بورڈ اور اساتذہ یونین دونوں نے تنخواہوں میں کم از کم تین فیصد اضافہ منظور کیا تھا۔
اسکول بورڈ آئندہ بدھ کو اجلاس میں ان ملازمین کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گا جنہیں واپس بلانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ٹرنر کے مطابق، ضلع تمام کٹوتی شدہ پوزیشنیں بحال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
