Trump Administration Vows Supreme Court Appeal After Deportation Ruli

جج نے کہا کہ تارکینِ وطن کو یہ بتائے بغیر کہ انہیں کہاں بھیجا جا رہا ہے اور انہیں اعتراض کا موقع دیے بغیر ملک بدر کرنا "غیر قانونی" ہے۔

Editor News

واشنگٹن/میساچوسٹس (ویب ڈیسک): امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس متنازع پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت تارکینِ وطن کو ان کے اپنے ملک کے بجائے کسی تیسرے ملک (مثلاً روانڈا یا ایل سلواڈور) ڈیپورٹ کیا جا رہا تھا۔

میساچوسٹس کے ڈسٹرکٹ جج برائن مرفی نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کی یہ پالیسی وفاقی امیگریشن قوانین اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

جج نے کہا کہ تارکینِ وطن کو یہ بتائے بغیر کہ انہیں کہاں بھیجا جا رہا ہے اور انہیں اعتراض کا موقع دیے بغیر ملک بدر کرنا “غیر قانونی” ہے۔

جج مرفی نے لکھا، “دستورِ پاکستان کی طرح امریکی آئین بھی یہ حق دیتا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانونی عمل (Due Process) کے بغیر اس کی آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔”

وائٹ ہاؤس اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

قومی سلامتی کا حوالہ: انتظامیہ کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاس “مجرمانہ پس منظر رکھنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن” کو نکالنے کا آئینی اختیار ہے اور یہ ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایبیگیل جیکسن نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک “لوئر کورٹ بائیڈن جج” کا ہے جو قائم نہیں رہے گا۔ حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس پالیسی کے تحت امریکہ نے کوسٹاریکا، پاناما اور روانڈا جیسے ممالک سے معاہدے کیے تھے تاکہ وہ ان تارکینِ وطن کو قبول کریں جو ان کے شہری نہیں ہیں۔ اس پالیسی میں ایک بڑا تنازع یہ تھا کہ امیگریشن افسران تارکینِ وطن سے خود نہیں پوچھتے تھے کہ آیا انہیں اس تیسرے ملک میں جان کا خطرہ ہے یا نہیں۔

جج نے ایک کیس کا ذکر کیا جہاں ایک گواٹے مالا کے شہری کو میکسیکو بھیج دیا گیا جہاں اس کے ساتھ زیادتی ہوئی، باوجود اس کے کہ ایک امیگریشن جج نے اسے تحفظ فراہم کیا تھا۔ اسی طرح کچھ تارکینِ وطن کو جبوتی (Djibouti) کے ایک بحری اڈے پر کنٹینرز میں رکھنے کے واقعات بھی سامنے آئے

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *