نیویارک : نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعرات کو ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں شہر میں ہاؤسنگ کے مسائل اور کولمبیا یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی گرفتاری پر تبادلہ خیال کیا گیا
ملاقات کے دوران میئر ممدانی نے صدر ٹرمپ کو نیویارک شہر میں 12,000 نئے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔
ممدانی کے ترجمان جو کالویلو کے مطابق، اس منصوبے میں گزشتہ 50 سالوں کی سب سے بڑی وفاقی سرمایہ کاری شامل ہو سکتی ہے۔
ملاقات کے بعد ممدانی نے ایک تصویر شیئر کی جس میں صدر ٹرمپ نے اخبار ‘ڈیلی نیوز’ کے دو سرورق (front pages) تھام رکھے تھے۔ ایک اصلی سرورق 1975 کا تھا جس میں اس وقت کے صدر جیرالڈ فورڈ نے نیویارک کی مدد سے انکار کیا تھا، جبکہ دوسرا ایک فرضی (mock) سرورق تھا جس کی سرخی تھی: “ٹرمپ کا شہر کے لیے پیغام: آئیے تعمیر کریں”۔
ملاقات کا ایک اور اہم پہلو کولمبیا یونیورسٹی کی طالبہ المینا آغایوا (Elmina Aghayeva) کی گرفتاری تھی۔
المینا کو جمعرات کی صبح وفاقی امیگریشن حکام (ICE) نے حراست میں لیا تھا۔
میئر ممدانی نے اس معاملے کو صدر ٹرمپ کے سامنے اٹھایا، جس کے بعد ٹرمپ نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ طالبہ کو رہا کر دیا جائے گا۔
بعد ازاں، المینا آغایوا کو اسی روز رہا کر دیا گیا، جس کی تصدیق انہوں نے سوشل میڈیا پر کی۔
یہ میئر ممدانی اور صدر ٹرمپ کے درمیان دوسری بالمشافہ ملاقات تھی۔ صدر ٹرمپ، جو خود نیویارک کے علاقے کوئینز سے تعلق رکھتے ہیں، نوجوان میئر کی کئی بار تعریف کر چکے ہیں۔
حال ہی میں اپنے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب میں ٹرمپ نے ممدانی کو “اچھا آدمی” قرار دیا تھا، حالانکہ انہوں نے ممدانی کی پالیسیوں سے اختلاف بھی ظاہر کیا تھا۔
میئر ممدانی نے اس ملاقات کو “تعمیری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نیویارک شہر میں سستی رہائش کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔
