US Student Loan Forgiveness to Remain Tax-Free Through 2025

جن خوش قسمت افراد کے قرضے 2025 میں معاف ہوئے ہیں، انہیں اب وفاقی سطح پر اس رقم پر کوئی ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکہ میںStudent Loans (طالب علموں کے قرضوں) کے حوالے سے جاری الجھنوں کے درمیان قرض داروں کے لیے ایک مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومتی پالیسیوں میں تبدیلیوں اور عدالتی مداخلت نے قرض داروں کو پریشان کر رکھا تھا، وہیں اب ٹیکس کے حوالے سے اہم ریلیف فراہم کر دیا گیا ہے۔

عام طور پر جب بھی کسی قرض کو معاف یا منسوخ کیا جاتا ہے، تو اسے “قابلِ ٹیکس آمدنی” (Taxable Income) تصور کیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ قرض دار کو اس رقم پر ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس سال ٹیکس دہندگان کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ ‘امریکن ریسکیو پلان ایکٹ’ کے تحت 2021 سے 2025 کے دوران منسوخ کیے گئے تمام اسٹوڈنٹ لونز کو وفاقی ٹیکس ریٹرن سے خارج کر دیا گیا ہے۔

جن خوش قسمت افراد کے قرضے 2025 میں معاف ہوئے ہیں، انہیں اب وفاقی سطح پر اس رقم پر کوئی ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔

گزشتہ سال بائیڈن انتظامیہ کا متعارف کردہ SAVE پلان ایک تصفیے کے بعد ختم ہو گیا تھا، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے بل (Big Beautiful Bill) نے گریجویٹس کے لیے قرض لینے کی نئی حدیں مقرر کر دی ہیں۔ اس بل نے ‘پبلک سروس لون فارگیونس’ (PSLF) پروگرام کے لیے بھی نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔

اگرچہ وفاقی حکومت نے ٹیکس میں چھوٹ دے دی ہے، تاہم مختلف ریاستوں کی پالیسیاں اس حوالے سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ شہری اپنی ریاست کے لوکل ٹیکس بورڈ یا آئی آر ایس (IRS) کی ویب سائٹ سے مکمل معلومات حاصل کریں تاکہ کسی بھی الجھن سے بچا جا سکے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *