لاس اینجلس (نیوز ڈیسک): پاکستان کے قونصلیٹ جنرل لاس اینجلس نے پاکستان-امریکہ ٹیکنالوجی کونسل (PAKAMTECH) کے ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی۔ ہائبرڈ طرز (آن لائن اور انفرادی شرکت) پر منعقد ہونے والے اس اجلاس میں کونسل کے ممبران اور اسٹیک ہولڈرز نے اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور مستقبل کی حکمت عملی طے کی۔
اجلاس میں ڈپٹی کانسل جنرل مبشر علی خان،پاک امریکن ٹیک کانسل کے صدر نجیب غوری، وقار خان اور پاکستانی امریکن آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پرفیشنلز نے شرکت کی
اجلاس کے آغاز میں لاس اینجلس میں متعین پاکستان کے قونصل جنرل جناب عاصم علی خان نے استقبالیہ کلمات کہے۔ انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی اشتراک سے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اجلاس کے دوران PAKAMTECH کے مقاصد پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے کونسل کے امور پر تبادلہ خیال کیا:
کونسل کے قیام سے اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ امریکی ٹیکنالوجی کی صنعت میں پاکستان کی موجودگی (Footprint) کو بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور ہوا۔کونسل نے سال 2026 کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک ایکشن پلان کی منظوری دی، جس کا مقصد پاکستانی ٹیک کمپنیوں اور ہنرمندوں کو امریکی مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔
کونسل کے اراکین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ امریکی ٹیک ایکو سسٹم میں پاکستان کے سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر آئی ٹی سروسز کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں گے۔ اجلاس کے اختتام پر پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو عالمی سطح پر مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کو دہرایا گیا۔
