White House Escalates Trade War With New 15% Global Tariff

ماہرین کے مطابق، پچھلے غیر قانونی ٹیرف کے تحت جمع کیے گئے اربوں ڈالر اب کمپنیوں کو واپس کرنے پڑ سکتے ہیں، جو امریکی خزانے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات (Tariffs) کو غیر قانونی قرار دینے کے چوبیس گھنٹے کے اندر ہی صدر ٹرمپ نے عالمی درآمدات پر ٹیرف کی شرح بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

جمعہ کے روز امریکی سپریم کورٹ نے 6-3 کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ‘انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ’ (IEEPA) کا استعمال کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، کیونکہ ٹیکس لگانے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کو “مضحکہ خیز” اور “غیر محب وطن” قرار دیتے ہوئے عدالت پر کڑی تنقید کی۔

عدالتی رکاوٹ کے باوجود، صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز سیکشن 122 (Trade Act of 1974) کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ قانون صدر کو توازنِ ادائیگی (Balance of Payments) کے بحران کی صورت میں 150 دنوں کے لیے 15 فیصد تک ٹیرف لگانے کی اجازت دیتا ہے۔

عٹیرف کی شرح ابتدائی 10 فیصد سے بڑھا کر اب 15 فیصد کر دی گئی ہے۔

کینیڈا اور میکسیکو کے وہ سامان جو ‘CUSMA’ معاہدے کے تحت آتے ہیں، اس اضافے سے مستثنیٰ ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق، پچھلے غیر قانونی ٹیرف کے تحت جمع کیے گئے اربوں ڈالر اب کمپنیوں کو واپس کرنے پڑ سکتے ہیں، جو امریکی خزانے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ عارضی محصولات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک ان کی انتظامیہ نئے اور “قانونی طور پر مستحکم” مستقل ٹیرف کا تعین نہیں کر لیتی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *