بھارت روس کےبجائےوینزویلاسےتیل خریدےگا،ٹرمپ کابڑا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ چین کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ وینزویلا سے تیل کی خریداری کا معاہدہ کر لے۔

Editor News

واشنگٹن / فلوریڈا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اب ایران اور روس کے بجائے وینزویلا سے تیل درآمد کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے “ڈیل کے تصور” پر اتفاق ہو چکا ہے، جس کا مقصد روس کی تیل سے ہونے والی آمدنی کو کم کرنا ہے۔

واشنگٹن سے فلوریڈا جاتے ہوئے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا:”ہم نے یہ معاہدہ کر لیا ہے، یا کم از کم معاہدے کے تصور پر اتفاق ہو گیا ہے۔ بھارت اب وینزویلا سے تیل خریدے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ چین کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ وینزویلا سے تیل کی خریداری کا معاہدہ کر لے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے بھارت کو روسی تیل کا متبادل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق:

بھارت نے روسی خام تیل کی خریداری میں بڑی کٹوتی کا عہد کیا ہے، خاص طور پر جب واشنگٹن نے اس سرگرمی پر ٹیرف (محصولات) میں اضافہ کر دیا تھا۔

بھارت اگلے چند ماہ میں روسی تیل کی درآمدات میں یومیہ لاکھوں بیرل کمی کرے گا۔ جنوری میں یہ درآمدات 12 لاکھ بیرل یومیہ تھیں، جنہیں مارچ تک 8 لاکھ بیرل اور مستقبل میں 5 سے 6 لاکھ بیرل تک لانے کا منصوبہ ہے۔

یاد رہے کہ مارچ 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا سے تیل خریدنے والے ممالک (بشمول بھارت) پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔

تاہم، 3 جنوری کو امریکی افواج کے ہاتھوں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد، واشنگٹن اب وینزویلا کی حکومت اور اس کی تیل کی صنعت کے معاملات براہِ راست چلا رہا ہے۔

بھارتی وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ بھارت روسی تیل پر انحصار کم کر کے اپنے ذرائع میں تنوع لا رہا ہے۔

بھارت پر روسی تیل خریدنے کی وجہ سے امریکی محصولات (Tariffs) 50 فیصد تک پہنچ گئے تھے۔

ایک بڑی تجارتی ڈیل کرنے میں مدد ملے گی، جس سے محصولات میں کمی متوقع ہے۔

اس امریکی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کی معیشت کو کمزور کرنا ہے، تاکہ اسے جنگی اخراجات کے لیے تیل سے ملنے والا فنڈ میسر نہ آ سکے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *