واشنگٹن(ویب ڈیسک): ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ٹیکس قانون ‘ون بگ بیوٹی فل بل’ (One Big Beautiful Bill) کے تحت ہونے والی تبدیلیوں کے بعد حکام یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سال 2026 میں امریکی عوام کو تاریخ کے سب سے بڑے ٹیکس ریفنڈز حاصل ہوں گے۔
ایوان کی ‘ویز اینڈ مینز کمیٹی’ کے چیئرمین جیمز سمتھ نے ایک حالیہ میمو میں مالیاتی ادارے ‘پائپر سینڈلر’ کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2026 کا سیزن ریفنڈز کے لحاظ سے سب سے بڑا سیزن ثابت ہونے والا ہے۔
نئے قانون کے تحت کئی ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن سے عام شہریوں پر ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا:
اب ٹپس (Tips) اور اوور ٹائم سے ہونے والی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔
کار لون کے سود (Car loan interest) پر بھی ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔
سینئر سٹیزنز کے لیے 6,000 ڈالر کی اضافی کٹوتی (Deduction) متعارف کرائی گئی ہے۔
: ٹیکس میں بنیادی چھوٹ کی حد کو بڑھا دیا گیا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق، چونکہ یہ بل جولائی میں منظور ہوا تھا اور اکثر ملازمین نے اپنے تنخواہ کے گوشواروں (Withholding) میں فوری تبدیلی نہیں کی تھی، اس لیے انہوں نے سال کے دوسرے حصے میں زائد ٹیکس ادا کیا ہے۔
بیسنٹ نے اندازہ لگایا ہے کہ:”ہم تقریباً 100 سے 150 ارب ڈالر کے ریفنڈز دیکھ رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ فی گھرانہ 1,000 سے 2,000 ڈالر تک کا ریفنڈ مل سکتا ہے۔”
جہاں ایک طرف ریفنڈز کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے، وہیں غیر جانبدار تحقیقی اداروں اور کانگریشنل بجٹ آفس (CBO) نے اس بل پر تنقید بھی کی ہے۔ تجزیوں کے مطابق اس بل سے سب سے زیادہ فائدہ (تقریباً 12,000 ڈالر سالانہ) امیر ترین 10 فیصد طبقے اور بڑے کاروباری اداروں کو ہوگا۔
خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ غریب ترین 10 فیصد طبقے کو سالانہ 1,600 ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، کیونکہ میڈیکیڈ اور فوڈ اسسٹنس (راشن پروگرام) جیسے فلاحی منصوبوں کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے۔
ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ “ٹیکس ریفنڈ” کا مطلب آمدنی میں اضافہ نہیں بلکہ حکومت کے پاس جمع شدہ آپ کا اپنا ہی اضافی پیسہ ہوتا ہے جو واپس ملتا ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ رقم ہاتھ میں آنے سے پہلے اسے خرچ کرنے کی منصوبہ بندی نہ کریں۔
