واشنگٹن (ویب ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ خلائی مخلوق، ماورائے زمین زندگی اور نامعلوم فضائی مظاہر (UAPs) سے متعلق حکومتی فائلوں کو ڈی کلاسیفائی (خفیہ فہرست سے نکالنے) اور رہا کرنے کا حکم دیں گے۔ صدر نے اس فیصلے کی وجہ سابق صدر براک اوباما کے حالیہ بیانات اور عوام میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت دیں گے کہ وہ ان “انتہائی پیچیدہ اور اہم معاملات” سے جڑی تمام معلومات کی شناخت اور انہیں عام کرنے کا عمل شروع کریں۔
ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے براک اوباما پر کڑی تنقید کی اور الزام لگایا کہ سابق صدر نے خلائی مخلوق کی موجودگی کا اشارہ دے کر “خفیہ معلومات” افشا کرنے کی بڑی غلطی کی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا، “میں نہیں جانتا کہ وہ (خلائی مخلوق) حقیقت میں ہیں یا نہیں، لیکن انہوں نے وہ معلومات دی ہیں جو انہیں نہیں دینی چاہیے تھیں۔”
سابق صدر براک اوباما نے ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا خلائی مخلوق حقیقی ہے، تو انہوں نے جواب دیا: “وہ حقیقی ہیں، لیکن میں نے انہیں دیکھا نہیں ہے۔” اگرچہ بعد میں اوباما نے انسٹاگرام پر وضاحت کی کہ ان کا مطلب کائنات کی وسعت کے لحاظ سے زندگی کے امکانات پر تھا اور ان کے دور صدارت میں خلائی مخلوق کے زمین پر آنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، لیکن ان کے الفاظ نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حالیہ برسوں میں امریکہ میں “نامعلوم فضائی مظاہر” (UAP) کے بارے میں دلچسپی بڑھی ہے۔ پینٹاگون نے اس حوالے سے ایک مخصوص دفتر (AARO) بھی قائم کیا ہے تاکہ ان اشیاء کی تحقیقات کی جا سکے جو فضا میں غیر معمولی رفتار یا انداز میں حرکت کرتی ہوئی دیکھی گئی ہیں۔
