نیویارک (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل (UNSC) میں نئے مستقل ارکان کی شمولیت کی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مراعات یافتہ طبقے کے دائرے کو وسیع کرنا جمہوری عمل نہیں بلکہ نظام کو مزید بگاڑنے کے مترادف ہے۔
20 فروری 2026 کو “رکنیت کے زمروں” پر ہونے والے دوسرے آئی جی این (IGN) اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے پاکستان کا دو ٹوک موقف پیش کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ محض چند نئے ممالک کو مستقل نشستیں دینے سے سلامتی کونسل جمہوری نہیں ہوگی، بلکہ یہ ایک بڑے ‘اولیگارکی’ (چند طاقتور افراد کی حکومت) کو جنم دے گی۔
ایک ایسے وقت میں جب کثیر الجہتی عالمی نظام (Multilateral System) پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، خصوصی مراعات کے مطالبات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ نئے مستقل ارکان کا اضافہ موجودہ مستقل ارکان کے غیر متناسب اثر و رسوخ کو کم نہیں کرے گا بلکہ اسے مزید مستحکم اور وسیع کر دے گا۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کو “مقصد کے لیے موزوں” (Fit for purpose) بنانے کے لیے اشرافیہ کلب کو بڑھانے کے بجائے پورے نظام میں ایسی اصلاحات لائی جائیں جو تمام رکن ممالک کے لیے منصفانہ ہوں۔
