امریکہ میں امیگریشن چھاپوں کے دوران فائرنگ: منیاپولس میں ہنگامے، نیشنل گارڈ الرٹ

نیاپولس کے میئر جیکب فرے نے وفاقی حکومت کے دعووں کو "پروپیگنڈا" اور "جھوٹ" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے

Editor News

منیاپولس / واشنگٹن: امریکہ میں وفاقی امیگریشن افسران (ICE) کی جانب سے دو روز میں فائرنگ کے دوسرے واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ ریاست مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے ممکنہ بے امنی کے پیشِ نظر ‘نیشنل گارڈ’ کو الرٹ کر دیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس اور مقامی حکام کے درمیان اس معاملے پر شدید لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔

پہلا واقعہ (منیاپولس): بدھ کے روز 37 سالہ امریکی شہری اور شاعرہ رینی نیکول گڈ کو ایک آئی سی ای (ICE) افسر نے اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ اپنی گاڑی میں موجود تھیں۔

دوسرا واقعہ (پورٹ لینڈ): جمعرات کو ریاست اوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں ‘بارڈر پیٹرول’ کے ایجنٹ نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک مرد اور ایک خاتون زخمی ہو گئے۔ وفاقی حکام کا دعویٰ ہے کہ گاڑی میں موجود افراد کا تعلق وینزویلا کے ایک گینگ سے تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے منیاپولس واقعے کی مقتولہ رینی گڈ کو “اندرونی دہشت گرد” (Domestic Terrorist) قرار دیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بغیر کسی ثبوت کے الزام لگایا کہ وہ آئی سی ای کے خلاف کام کرنے والے ایک بائیں بازو کے نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔

صدر ٹرمپ اور نائب صدر وینس کا کہنا ہے کہ افسر نے اپنے دفاع میں گولی چلائی کیونکہ خاتون نے ان پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی تھی۔

مینیسوٹا کے گورنر اور منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے وفاقی حکومت کے دعووں کو “پروپیگنڈا” اور “جھوٹ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ عینی شاہدین اور ویڈیو فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی افسر سے دور مڑ رہی تھی جب گولیاں چلائی گئیں۔

ریاستی حکام نے شکایت کی ہے کہ وفاقی ایجنسیاں انہیں جائے وقوعہ کے شواہد اور تفتیش تک رسائی نہیں دے رہیں۔ اس تنازع کے بعد مینیسوٹا بیورو آف کریمنل اپریہینشن (BCA) نے تحقیقات سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، جس کے بعد اب صرف ایف بی آئی (FBI) اس کیس کی تفتیش کرے گی۔ گورنر والز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وفاقی ایجنسی کی یکطرفہ تحقیقات سے “انصاف کی توقع کم” ہے۔

منیاپولس میں سینکڑوں مظاہرین نے وفاقی عمارتوں کے باہر جمع ہو کر “قاتل” اور “شرم کرو” کے نعرے لگائے۔ پولیس کی جانب سے مجمع کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پیپر بالز کا استعمال کیا گیا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے گورنر ٹم والز نے نیشنل گارڈ کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے تاکہ حساس تنصیبات کی حفاظت کی جا سکے۔

یہ واقعات صدر ٹرمپ کے اس وعدے کے دوران پیش آ رہے ہیں جس میں انہوں نے امریکی تاریخ کی “سب سے بڑی ملک بدری مہم” کا اعلان کیا ہے۔ پورٹ لینڈ کی گورنر ٹینا کوٹیک نے وفاقی طاقت کے اس استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ خوف اور نفرت کے ذریعے حکومت چلانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے لاقانونیت پیدا ہو رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *