واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک پر 25 فیصد ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایران میں جاری ملک گیر احتجاج اور مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے تناظر میں دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ جو ممالک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھیں گے، انہیں امریکہ کے ساتھ کاروبار کرنے پر فوری طور پر 25 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے لکھا:”یہ حکم حتمی اور قطعی ہے۔ جو بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کرے گا، اسے امریکہ کے ساتھ ہونے والی اپنی ہر قسم کی تجارت پر 25 فیصد ٹیرف دینا ہوگا۔“
اگرچہ ٹرمپ نے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا، لیکن ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار بشمول چین، ترکی، متحدہ عرب امارات اور عراق براہ راست متاثر ہوں گے۔
ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے معاشی بدحالی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے اب پورے ملک میں پھیل چکے ہیں اور یہ 1979 کے انقلاب کے بعد موجودہ نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں (IHR) کے مطابق کریک ڈاؤن میں اب تک کم از کم 648 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکومت نے معلومات کی فراہمی روکنے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ تقریباً مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں، خاص طور پر دوہری شہریت رکھنے والوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت دی ہے، کیونکہ انہیں گرفتاری اور تشدد کا خطرہ ہے۔
بیجنگ نے ٹرمپ کے اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے ”یکطرفہ اور غیر قانونی“ قرار دیا ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ”تجارتی جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی۔“
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان مظاہروں کو ”غیر ملکی مداخلت“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک دشمن عناصر کی سازش ہے جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ”مکمل تیار“ ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال سے نہیں ڈرتے، تاہم فی الحال وہ سفارت کاری اور معاشی پابندیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، ایران کے پارلیمنٹ سپیکر نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اسے ”ناقابلِ فراموش سبق“ سکھایا جائے گا۔
