کیلیفورنیا(ویب ڈیسک): گرامی ایوارڈ یافتہ ریپر کارڈی بی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کی موسیقی نہیں بلکہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے ساتھ ان کی کھلم کھلا تکرار ہے۔
اپنے حالیہ ‘لٹل مس ڈرامہ ٹور’ کے دوران کیلیفورنیا میں پرفارم کرتے ہوئے کارڈی بی نے اسٹیج سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کو سخت وارننگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مداحوں کو پکڑنے کے لیے ادارے کے اہلکار آئے تو وہ انہیں نہیں چھوڑیں گی۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی حکومتی ایوانوں تک پہنچ گیا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے کارڈی بی کے ماضی کے حوالے سے ایک انتہائی تندوتیز جملہ کسا۔ انہوں نے لکھا: “جب تک وہ ہمارے ایجنٹوں کو نشہ دے کر لوٹتی نہیں ہیں، ہم اسے ان کے ماضی کے رویے کے مقابلے میں ایک بہتری سمجھیں گے۔” یہ تبصرہ کارڈی بی کے ان اعترافات کی طرف اشارہ تھا جو انہوں نے اپنے ماضی (بطور ڈانسر) کے بارے میں کیے تھے۔
کارڈی بی خاموش نہ رہیں اور انہوں نے بحث کا رخ موڑتے ہوئے امریکی نظامِ انصاف پر سوال اٹھا دیے۔ انہوں نے جواب دیا: “اگر ہم منشیات کی بات کر رہے ہیں تو آئیے ‘ایپسٹین اور اس کے دوستوں’ کی بات کریں جو کم عمر لڑکیوں کو نشہ دے کر ان کا استحصال کرتے تھے۔ آپ لوگ ایپسٹین فائلز کے بارے میں بات کیوں نہیں کرنا چاہتے؟”
کارڈی بی کا یہ اشارہ حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی ان لاکھوں دستاویزات کی طرف تھا جو بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق ہیں۔ ان دستاویزات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام 5,000 سے زائد مرتبہ آیا ہے، اگرچہ انہوں نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔ اس کیس نے ہالی ووڈ اور امریکی سیاست کے کئی بڑے ناموں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔
کارڈی بی کے اس جواب نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ حکومت چھوٹے جرائم یا فنکاروں کے بیانات پر تو فوری ایکشن لیتی ہے، لیکن طاقتور لوگوں کے بڑے جرائم پر خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے۔
