سان فرانسسکو(ویب ڈیسک):برسوں سے یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ناسا (NASA) نے 1969 کے تاریخی اپالو 11 مشن کی اصل ویڈیوز جان بوجھ کر مٹا دی ہیں تاکہ کسی حقیقت کو چھپایا جا سکے، لیکن مشہور یوٹیوبر ٹم ڈوڈ (Tim Dodd) نے اس معاملے کی اصل حقیقت بیان کر دی ہے۔
ڈوڈ کے مطابق، جو ‘ایوری ڈے آسٹروناٹ’ کے نام سے مشہور ہیں، ضائع ہونے والی ٹیپس دراصل صرف ‘بیک اپ مقناطیسی ٹیپس’ تھیں، جنہیں 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں ٹیپس کی کمی کی وجہ سے دوبارہ استعمال (Over-write) کر لیا گیا تھا۔
ٹم ڈوڈ نے وضاحت کی کہ اس وقت ناسا کے حکام نے ان بیک اپ ٹیپس کو غیر ضروری سمجھا کیونکہ تمام اہم ڈیٹا، ویڈیو اور ریڈیو سگنلز پہلے ہی ہیوسٹن منتقل ہو کر ٹی وی پر براہِ راست نشر ہو چکے تھے۔ اس زمانے میں کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی ان خام ویڈیوز (Raw footage) کے معیار کو اس حد تک بہتر (Upscale) کر سکے گی جیسا کہ آج ممکن ہے۔
اگرچہ اعلیٰ معیار کی اصل ٹیپس مٹ چکی ہیں، لیکن ناسا کے پاس اب بھی ہزاروں گھنٹوں کا ڈیٹا موجود ہے جو چاند پر اترنے کی تصدیق کرتا ہے۔ اس میں ہیوسٹن کی ریکارڈنگز، آڈیو اور وہ 70 ملی میٹر فلمیں بھی شامل ہیں جو خلا بازوں نے چاند کی سطح پر کیمروں سے بنائی تھیں۔
یہ فلمیں اتنی واضح ہیں کہ آج بھی آئی میکس (IMAX) فلموں میں اسی معیار کی ریل استعمال کی جاتی ہے۔ لہٰذا، ٹیپس کا مٹنا محض ایک انتظامی غلطی تھی، نہ کہ کوئی پراسرار سازش۔
