واشنگٹن(ویب ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے اپنے “بورڈ آف پیس” (Board of Peace) کے پہلے باضابطہ اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے کثیر اربوں ڈالر کے منصوبے اور اقوامِ متحدہ سے منظور شدہ استحکام فورس کی تفصیلات کا اعلان کریں گے۔
سینئر امریکی حکام کے مطابق 19 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے اس اہم اجلاس کی صدارت صدر ٹرمپ خود کریں گے، جس میں 20 سے زائد ممالک کے وفود اور سربراہانِ مملکت کی شرکت متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے رواں سال 23 جنوری کو ڈیووس میں اس بورڈ کے قیام کی دستاویزات پر دستخط کیے تھے، جسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق بھی حاصل ہے۔ اس بورڈ میں ترکی، مصر، سعودی عرب، قطر اور انڈونیشیا جیسی علاقائی طاقتیں شامل ہو چکی ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی حالیہ دورہ واشنگٹن کے دوران بورڈ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
منصوبے کے مطابق، غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی فورس تعینات کی جائے گی جس کے لیے کئی ممالک ہزاروں فوجی فراہم کریں گے۔ اس منصوبے کے تحت ہتھیار ڈالنے والے حماس کے ارکان کو عام معافی دی جائے گی، جبکہ غزہ کا روزمرہ انتظام سنبھالنے کے لیے ایک “قومی کمیٹی” بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ رضاکارانہ عطیات پر مبنی ہوگا اور اس کا واحد مقصد غزہ کی بحالی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنا ہے۔
