واشنگٹن / منیاپولس: امریکی سرحدی امور کے نگران (بارڈر زار) ٹام ہومین نے اعلان کیا ہے کہ امریکی ریاست منی سوٹا میں گزشتہ سال شروع کیا گیا خصوصی امیگریشن انفورسمنٹ آپریشن اب باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دے دی ہے۔
ٹام ہومین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس خصوصی آپریشن کے دوران عوامی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد اور دیگر ترجیحی اہداف کی گرفتاری میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کے دوران ریاستی حکام اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ غیر معمولی سطح پر تعاون دیکھنے میں آیا۔
مسٹر ہومین کے مطابق، ان کامیابیوں اور بہتر رابطہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے آپریشن ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس سے صدر ٹرمپ نے اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ یہ آپریشن غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں شروع کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد عوامی تحفظ اور وفاقی قوانین کا موثر نفاذ تھا۔
بارڈر زار ٹام ہومین کی جانب سے آپریشن ختم کرنے کے باقاعدہ اعلان سے قبل ہی منی سوٹا میں اس آپریشن کے چیف کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ مزید برآں، ریاست سے سات سو (700) امیگریشن ایجنٹس کو فوری طور پر واپس بلانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ اب اپنی توجہ کے مراکز تبدیل کر رہی ہے۔
