امریکہ اقوامِ متحدہ کےواجب الادا اربوں ڈالرز کی ادائیگی جلد شروع کرے گا: مائیک والٹز

اقوامِ متحدہ کے حکام کے مطابق باقاعدہ بجٹ کا 95 فیصد سے زائد حصہ امریکہ کے ذمہ ہے، جو فروری کے آغاز تک 2.19 ارب ڈالر بنتا ہے۔

Editor News
Former National Security adviser Mike Waltz, nominated to be U.S. ambassador to the United Nations, testifies before a Senate Foreign Relations Committee confirmation hearing on Capitol Hill in Washington, D.C., U.S., July 15, 2025. REUTERS/Ken Cedeno

واشنگٹن (رائٹرز): اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ امریکہ عالمی ادارے کو واجب الادا اربوں ڈالرز کے بقایاجات کی پہلی قسط چند ہفتوں میں ادا کر دے گا۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کو اپنی اصلاحات کا عمل جاری رکھنا ہوگا۔

یہ بیان اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے اس انتباہ کے دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واجب الادا فیسوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے 193 ملکوں پر مشتمل یہ تنظیم “فوری مالیاتی تباہی” کے خطرے سے دوچار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، ان واجب الادا رقوم کا بڑا حصہ واشنگٹن کے ذمہ ہے۔

رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مائیک والٹز کا کہنا تھا:”آپ بہت جلد رقم کی پہلی قسط دیکھیں گے۔ یہ ہمارے سالانہ واجبات پر ایک نمایاں ‘ڈاؤن پیمنٹ’ ہوگی۔ اگرچہ حتمی رقم کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، لیکن یہ ادائیگی چند ہفتوں میں کر دی جائے گی۔”

واجب الادا رقم کی تفصیلات
اقوامِ متحدہ کے حکام کے مطابق باقاعدہ بجٹ کا 95 فیصد سے زائد حصہ امریکہ کے ذمہ ہے، جو فروری کے آغاز تک 2.19 ارب ڈالر بنتا ہے۔

اس کے علاوہ، امن مشنز کے لیے 2.4 ارب ڈالر اور بین الاقوامی ٹربیونلز کے لیے 4.36 کروڑ ڈالر بھی واجب الادا ہیں۔

امریکہ نے گزشتہ سال بھی باقاعدہ بجٹ میں اپنا حصہ ادا نہیں کیا تھا۔

یہ مالیاتی بحران ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ متعدد عالمی محاذوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر کی تاریخ دہائیوں پرانی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ان بقایاجات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ 30 دسمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سال 2026 کے لیے 3.45 ارب ڈالر کے باقاعدہ بجٹ کی منظوری دی تھی، جو دنیا بھر میں تنظیم کے دفاتر، عملے کی تنخواہوں اور انسانی حقوق کے کاموں پر خرچ کیے جائیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *