نیویارک (ویب ڈیسک): گریٹ لیکس کے اوپر صاف آسمان اور حالیہ شدید سرد لہر کے باعث سیٹلائٹ تصاویر میں جھیل ایری (Lake Erie) کا منظر حیران کن حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ جھیل اب مکمل طور پر منجمد ہونے کے بے حد قریب پہنچ چکی ہے۔
برف باری اور اعداد و شمار نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق، جھیل ایری کا تقریباً 95 فیصد حصہ برف سے ڈھکا جا چکا ہے۔ جنوری کے وسط سے آخر تک جاری رہنے والی قطبی سرد لہر (Arctic Cold) نے جھیل کو منجمد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
جنوری کے ایک ہی ہفتے میں برف کی شرح 2 فیصد سے بڑھ کر 85 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
عام طور پر موسم سرما میں یہاں برف کا تناسب 65 سے 70 فیصد تک رہتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ ہے۔
جھیل ایری ہی کیوں؟ جھیل ایری ‘گریٹ لیکس’ میں سب سے کم گہری جھیل ہے، جس کی وجہ سے یہ دیگر جھیلوں کے مقابلے میں جلد ٹھنڈی اور منجمد ہو جاتی ہے۔ اگرچہ مغربی حصہ پہلے منجمد ہوتا ہے، لیکن اس بار طویل سردی نے وسطی اور مشرقی حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
تاریخی تناظر اور موسم کی پیش گوئی جھیل کا مکمل منجمد ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ جدید ریکارڈ میں جھیل ایری اب تک صرف تین بار مکمل طور پر جمی ہے، جس میں آخری بار فروری 1996 میں ایسا ہوا تھا۔ ماہرین موسمیات کا ماننا ہے کہ اگر جھیل اگلے چند دنوں میں مکمل طور پر نہ جمی، تو وسط فروری میں متوقع درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے یہ موقع ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔
انتظامیہ کی وارننگ محکمہ موسمیات اور ایمرجنسی مینجمنٹ کے حکام نے شہریوں کو سخت خبردار کیا ہے کہ جھیل پر نظر آنے والی برف کی تہہ دھوکہ دہی اور خطرناک ہو سکتی ہے۔
“برف کی موٹائی ہر جگہ یکساں نہیں ہوتی؛ پانی کی لہریں اسے کمزور کر سکتی ہیں اور ہوا کا دباؤ کسی بھی وقت دراڑیں پیدا کر سکتا ہے۔ جب تک مقامی انتظامیہ اسے محفوظ قرار نہ دے، برف پر جانے سے گریز کریں۔”
