Nassau Police officials praised for solving Nafia Ikram case

نافیہ کے والد نے بھی پولیس حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان افسران کی محنت کے بغیر یہ انصاف ممکن نہ تھا۔

Atif Khan

نیویارک: نیویارک اور نساؤ کاؤنٹی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ثابت کر دیا کہ “قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں”۔

پاکستانی نژاد امریکی طالبہ نافیہ اکرام پر ہونے والے بزدلانہ تیزاب گردی کے حملے میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر کمیونٹی اور متاثرہ خاندان کی جانب سے پولیس افسران کی کارکردگی کو بھرپور سراہا جا رہا ہے۔

2021 میں جب یہ واقعہ پیش آیا، تو پولیس کے پاس کوئی ٹھوس سراغ نہیں تھا۔ ح لیکن نساؤ کاؤنٹی پولیس اور ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کے جاسوسوں نے ہار نہیں مانی۔ شواہد کا ازسرِ نو جائزہ لیا گیا اور ڈیجیٹل دنیا کی خاک چھانی گئی۔

پولیس کی اس کامیابی میں سب سے اہم کردار ان کی جدید فارنزک مہارت نے ادا کیا۔ تفتیشی ٹیم نے لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کیا، جس میں سوشل میڈیا مانیٹرنگ کےدوران مشتبہ شخص کے گانوں کے بولوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

ملزم کی ہسٹری ٹریس کی گئی جس نے اسے جائے وقوعہ اور جرم سے جوڑ دیا۔
پرانی ویڈیوز کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تجزیہ کیا گیا۔

ڈسٹرکٹ اٹارنی این ڈونیلی اور ان کی ٹیم نے جس طرح اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا، اس نے نیویارک میں بسنے والی اقلیتی کمیونٹی کا قانون پر اعتماد بحال کر دیا ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے نہ صرف ایک مجرم کو پکڑا بلکہ نافیہ جیسے ہزاروں مظلوموں کو یہ امید دی ہے کہ انصاف کبھی نہ کبھی ضرور ملتا ہے۔

نافیہ کے والد نے بھی پولیس حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان افسران کی محنت کے بغیر یہ انصاف ممکن نہ تھا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *