ہولوکاسٹ کی یاد کا عالمی دن: نیویارک میں زندہ بچ جانے والی خواتین کی دردناک داستانیں

گیبریلا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج 81 سال گزرنے کے بعد دوبارہ نفرت کا ابھرنا اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔

Atif Khan

نیویارک(ویب ڈیسک): ہولوکاسٹ کی یاد کے عالمی دن کے موقع پر ’سینٹر فار جیوش ہسٹری‘ (Center for Jewish History) میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جہاں ہولوکاسٹ کے مظالم سے زندہ بچ جانے والی دو خواتین نے اپنی زندگی کی لرزہ خیز کہانیاں شیئر کیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گیبریلا میجر نے بتایا کہ جب ہنگری میں یہودیوں کا قتلِ عام شروع ہوا تو وہ محض دو سال کی تھیں۔ انہوں نے کہا:

”آج ہولوکاسٹ کی یاد کا عالمی دن ہے، جو آشوٹز (Auschwitz) کے خوفناک حراستی کیمپوں کی آزادی کا دن بھی ہے۔ میرے دادا دادی سمیت خاندان کے کئی افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت جرمن جنگ ہار رہے تھے اور وہ جلد از جلد ہنگری کے یہودیوں کو ختم کرنا چاہتے تھے۔“

گیبریلا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج 81 سال گزرنے کے بعد دوبارہ نفرت کا ابھرنا اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔

یوکرین سے تعلق رکھنے والی ٹوبی لیوی اس وقت آٹھ سال کی تھیں جب ہولوکاسٹ نے ان کا بچپن چھین لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے نازیوں کے جھوٹے وعدوں پر یقین کرنے کے بجائے روپوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ ٹوبی نے دو سال ایک خفیہ جگہ پر چھپ کر گزارے۔ انہوں نے کہا:

”میرے والد نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ اگر ہم زندہ بچ گئے، تو تم اسکول جاؤ گی اور دنیا کو ہماری کہانی سناؤ گی۔ آج میں ان کی خواہش پوری کر رہی ہوں۔“

ٹوبی لیوی اب اپنی زندگی نئی نسل کو اس تاریخ کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے وقف کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہودیوں کے مسائل اکیلے یہودی حل نہیں کر سکتے، اس کے لیے پوری دنیا کے تعاون کی ضرورت ہے۔

تقریب کے اختتام پر دونوں خواتین نے عوام پر زور دیا کہ وہ ’سینٹر فار جیوش ہسٹری‘ میں جاری ’این فرینک نمائش‘ (Anne Frank exhibition) کا دورہ ضرور کریں، جو یکم فروری تک جاری رہے گی۔ اس نمائش کا مقصد نئی نسل کو ماضی کے تلخ حقائق سے روشناس کروانا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے مظالم کا راستہ روکا جا سکے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *