دستاویزی فلم “میلانیا”کی باکس آفس پرتوقعات سےبہتر شروعات

ایمیزون نے اس دستاویزی فلم کے حقوق حاصل کرنے کے لیے 40 ملین ڈالر ادا کیے، جبکہ اس کی تشہیر پر 35 ملین ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

Editor News

نیویارک: خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم “میلانیا” نے باکس آفس پر اپنی اوپننگ کے پہلے ہفتے میں توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ اتوار کے تخمینوں کے مطابق فلم نے اپنے پہلے ویک اینڈ پر 7.04 ملین ڈالر کا کاروبار کیا ہے۔

یہ فلم اس ویک اینڈ پر تیسرے نمبر پر رہی۔ پہلے نمبر پر سیم رائمی کی تھرلر فلم “سینڈ ہیلپ” (20 ملین ڈالر) اور دوسرے نمبر پر مشہور یوٹیوبر ‘مارکی پلیئر’ کی فلم “آئرن لنگ” (17.8 ملین ڈالر) رہی۔

ایمیزون نے اس دستاویزی فلم کے حقوق حاصل کرنے کے لیے 40 ملین ڈالر ادا کیے، جبکہ اس کی تشہیر پر 35 ملین ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

فلمی دنیا کے ماہرین اور ناقدین اس سودے پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایمیزون کی بولی اپنے حریف ‘ڈزنی’ سے 26 ملین ڈالر زیادہ تھی۔ سابق فلم ایگزیکٹو ٹیڈ ہوپ نے ‘نیویارک ٹائمز’ سے بات کرتے ہوئے اسے میوزک لائسنسنگ کے بغیر بننے والی اب تک کی مہنگی ترین دستاویزی فلم قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ سودا محض کاروبار تھا یا ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش؟

اس فلم کے ڈائریکٹر بریٹ ریٹنر ہیں، جن پر 2017 میں جنسی ہراسانی کے الزامات لگنے کے بعد یہ ان کی پہلی فلم ہے۔ (ریٹنر نے ان الزامات کی تردید کی ہے)۔

رپورٹ کے مطابق نیویارک کے دو تہائی عملے نے فلم کے کریڈٹس میں اپنا نام شامل نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

فلم کو ناقدین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ ‘روٹن ٹومیٹوز’ پر اسے صرف 10 فیصد اور ‘میٹاکریٹک’ پر 7 فیصد اسکور ملا ہے، جو کہ شدید ناپسندیدگی کی علامت ہے۔ نیویارک ٹائمز کی فلمی نقاد منوہلا ڈارگس نے اسے صدر ٹرمپ کی 2025 کی تقریبِ حلف برداری سے 20 دن پہلے کی زندگی کا ایک “انتہائی محتاط اور منظم تذکرہ” قرار دیا۔

ایمیزون ایم جی ایم (Amazon MGM) کے ڈسٹری بیوشن ہیڈ کیون ولسن نے اسے ایک اہم آغاز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فلم اور آنے والی سیریز کو ایمیزون پرائم کی اسٹریمنگ سروس پر طویل عرصے تک پذیرائی ملے گی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *