لاس اینجلس / واشنگٹن: سی این این کے سابق نامور اینکر اور موجودہ آزاد صحافی ڈان لیمن (Don Lemon) کو جمعرات کی رات دیر گئے لاس اینجلس سے وفاقی حکام نے گرفتار کر لیا۔ ان کے وکیل کے مطابق، یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب لیمن گریمی ایوارڈز (Grammy Awards) کی کوریج کے لیے وہاں موجود تھے۔
ڈان لیمن کی گرفتاری کا تعلق رواں ماہ ریاست مینیسوٹا کے شہر سینٹ پال میں ہونے والے ایک احتجاج کی کوریج سے ہے۔ مظاہرین نے ایک مقامی چرچ میں داخل ہو کر احتجاج کیا تھا، جہاں ان کا ماننا تھا کہ ایک ‘آئس’ (ICE) ایجنٹ بطور پادری فرائض انجام دے رہا ہے۔
: ٹرمپ انتظامیہ نے لیمن سمیت 8 افراد پر عبادت گاہوں میں احتجاج کے خلاف بنے ایک قانون کے تحت فردِ جرم عائد کرنے کی کوشش کی ہے۔
لیمن کا موقف: ڈان لیمن کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کا حصہ نہیں تھے بلکہ بطور صحافی اس کی کوریج کر رہے تھے۔
ڈان لیمن کے وکیل نے اس گرفتاری کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم (آزادیِ اظہار) پر “بے مثال حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا:”بجائے اس کے کہ محکمہ انصاف ان وفاقی ایجنٹوں کی تحقیقات کرے جنہوں نے مینیسوٹا میں دو پرامن شہریوں کو قتل کیا، وہ اپنا تمام وقت اور وسائل ایک صحافی کی گرفتاری پر ضائع کر رہے ہیں۔”
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کے دوسرے دور میں صحافتی تنظیموں اور ڈیموکریٹس کی جانب سے پریس کی آزادی پر پابندیوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ڈان لیمن، جو طویل عرصے سے سابق صدر ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کے ناقد رہے ہیں، حالیہ دنوں میں مینیسوٹا میں ‘آئس’ (ICE) کے کریک ڈاؤن کے دوران دو شہریوں کی ہلاکت کی کوریج کر رہے تھے۔
لیمن برسوں تک سی این این کے پرائم ٹائم ہوسٹ رہے ہیں۔
2023 میں نیٹ ورک چھوڑنے کے بعد، انہوں نے یوٹیوب اور سب اسٹیک (Substack) پر “The Don Lemon Show” کے نام سے اپنا آزاد پروگرام شروع کیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ جمعہ کی صبح ایک پریس کانفرنس میں اس گرفتاری کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔
