البانی، نیویارک: نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک امریکی کانگریس رکن پال ٹونکو نے وفاقی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے ایجنسی کی حالیہ کارروائیوں، شوٹنگ کے واقعات اور نیویارک کی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو اس مطالبے کی بنیاد بنایا ہے۔
جمعرات کی صبح اپنے البانی دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پال ٹونکو نے انکشاف کیا کہ:2025 گزشتہ کئی دہائیوں میں ایجنسی کے لیے مہلک ترین سال رہا، جس کے دوران 32 افراد حراست میں ہلاک ہوئے، جبکہ 2026 میں یہ سلسلہ مزید بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے الیکس پریٹی اور رینی نکول گُڈ کی فائرنگ سے ہلاکت، بچوں کو حراست میں لینے اور قانونی مبصرین پر آنسو گیس کے استعمال کو ایجنسی کے “بے لگام” ہونے کا ثبوت قرار دیا۔
پال ٹونکو نے واضح کیا کہ وہ امیگریشن قوانین کے خاتمے کے حق میں نہیں، لیکن ان کا ماننا ہے کہ ‘آئس’ (ICE) اپنے قومی سلامتی کے مشن سے ہٹ چکی ہے۔ ان کے اہم نکات درج ذیل تھے:
ہاسپیٹلٹی (ہوٹلنگ)، زراعت اور سیاحت جیسے شعبے تارکین وطن ورکرز پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں ایجنسی کی کارروائیوں سے نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ فارمز، ریسٹورنٹس اور ریس ٹریکس پر کام کرنے والے ورکرز کو بغیر کسی مجرمانہ ریکارڈ کے محض رنگت اور نسل کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کانگریس رکن نے ایک لیک ہونے والے میمو کا حوالہ دیا جس میں وارنٹ کے بغیر گھروں میں داخل ہونے کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔ انہوں نے اسے امریکی آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ “بے گناہ ہوں یا گناہ گار، ہر ایک کو قانونی چارہ جوئی (Due Process) کا حق حاصل ہے۔”
پال ٹونکو کا کہنا ہے کہ ایجنسی عوامی اعتماد کھو چکی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ:امریکہ کو 2003 (ICE کی تشکیل) سے پہلے والے نظام پر واپس جانا چاہیے۔
نفاذِ قانون کا مرکز من مانی گرفتاریاں یا کوٹہ پورا کرنا نہیں، بلکہ صرف حقیقی مجرمانہ خطرات ہونا چاہیے۔
