لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

میٹاکی’AI Glasses’پرائیویسی کےسنگین تنازع کا شکار،نیاسکیورٹی فیچرمتعارف

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

سان فرانسسکو: ٹیکنالوجی کمپنی میٹا (Meta) کی سمارٹ ‘اے آئی گلاسز’ (AI Glasses) کو دنیا بھر میں خفیہ نگرانی (Surveillance Device) اور پرائیویسی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس منفی تاثر کو زائل کرنے کے لیے میٹا نے ایک نیا سکیورٹی اپ ڈیٹ متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اگر کوئی صارف گلاسز کی ریکارڈنگ ظاہر کرنے والی ‘ایل ای ڈی لائٹ’ (LED Light) کو بند یا خراب کرنے کی کوشش کرے گا، تو چشمے کا کیمرہ خود بخود بلاک ہو جائے گا۔

ایک طرف جہاں میٹا اس نئے حفاظتی فیچر پر اپنی پیٹھ تھپتھا رہی ہے، دوسری طرف کمپنی صارفین سے ان کا مزید ذاتی ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، میٹا اپنے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ماڈلز کو ٹرین کرنے کے لیے صارفین کی تصاویر، ویڈیوز اور بائیومیٹرک ڈیٹا (Biometric data) کا استعمال کر رہی ہے، جب تک کہ صارف خود اس آپشن کو ‘آپٹ آؤٹ’ (Opt-out) نہ کرے۔

میٹا نے خود اعتراف کیا ہے کہ کئی شاطر صارفین گلاسز کی ایل ای ڈی لائٹ پر ٹیپ لگا کر یا اسے توڑ کر لوگوں (خاص طور پر خواتین) کی ان کی مرضی کے بغیر خفیہ ویڈیوز ریکارڈ کر رہے تھے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ پرائیویسی کے اس دعوے کے باوجود، فنانشل ٹائمز (Financial Times) کی رپورٹ کے مطابق، میٹا ایک ایسے پروٹوٹائپ پر کام کر رہا ہے جو مسلسل آڈیو ریکارڈ کرے گا اور ہر چند سیکنڈ بعد تصاویر لے گا۔ اس کے علاوہ، جس دن میٹا نے ایل ای ڈی لاک کا اعلان کیا، اسی دن یہ بھی واضح کیا کہ ‘میٹا اے آئی’ اب کسی بھی صارف کی پبلک انسٹاگرام تصاویر (Public Instagram photos) کو اے آئی امیجز بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

میٹا کی پرائیویسی کی خلاف ورزیوں کی تاریخ پرانی ہے۔ 2018 کے بدنام زمانہ کیمبرج اینالیٹکا اسکینڈل (Cambridge Analytica scandal) سے لے کر بچوں کی آن لائن حفاظت میں ناکامی تک، کمپنی ہمیشہ تنقید کی زد میں رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں کمپنی کو کینیا میں فیس بک کے آؤٹ سورس ورکرز کی جانب سے بھی مقدمات کا سامنا ہے، جنہوں نے الزام لگایا کہ انہیں میٹا اے آئی گلاسز کے ڈیٹا کو ٹرین کرنے کے لیے انتہائی غیر اخلاقی اور گرافک مواد دیکھنے پر مجبور کیا گیا۔ یہاں تک کہ ایپل (Apple) نے بھی پرائیویسی خدشات کی بنا پر میٹا کے ساتھ پارٹنرشپ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اگرچہ کیمرے کی ایل ای ڈی کا نیا فیچر ایک اچھا قدم ہے، لیکن صارفین کے لیے سوشل میڈیا کے اس بڑے پلیٹ فارم پر اپنے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے شکوک و شبہات اب بھی برقرار ہیں۔