پیرس/نیویارک(ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، علمی اور ثقافتی ادارے (UNESCO) نے کہا ہے کہ سال 2024 انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے 2016 کے بعد بدترین سال ثابت ہوا ہے، اور یہ خطرناک رجحان 2026 میں بھی برقرار ہے۔
یونیسکو نے شہری حقوق کی مانیٹرنگ کرنے والے گروپ ‘ایکسیس ناؤ’ (Access Now) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سیاسی عدم استحکام اور انتخابات کے دوران ڈیجیٹل رکاوٹیں کھڑی کرنا اب ایک عام ہتھیار بن چکا ہے۔
ایران: جنوری 2026 میں دوبارہ شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران حکام نے ملک بھر میں تقریباً مکمل ‘بلیک آؤٹ’ کر دیا، جس سے صحافیوں اور شہریوں کے لیے معلومات کی ترسیل ناممکن ہو گئی۔
افغانستان: ستمبر اور اکتوبر 2025 میں طالبان کی جانب سے ملک گیر انٹرنیٹ بندش نے انسانی ہمدردی کے کاموں اور خواتین کی تعلیم تک رسائی کو شدید متاثر کیا۔
نیپال: ستمبر 2025 میں سیاسی بدامنی کے دوران 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی گئی۔
افریقہ: اکتوبر 2025 کے انتخابات کے دوران کیمرون اور تنزانیہ میں انٹرنیٹ کی خدمات معطل کی گئیں، جس پر انسانی حقوق کے اداروں نے کڑی تنقید کی۔
یونیسکو کے مطابق، انٹرنیٹ تک رسائی صرف تفریح نہیں بلکہ اظہارِ رائے کی آزادی کا لازمی حصہ ہے۔ بندش کے باعث:
ہسپتالوں کا ڈاکٹروں سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔
ووٹرز اپنے امیدواروں کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کر پاتے۔
چھوٹے کاروباروں کو شدید مالی نقصان پہنچتا ہے۔
مظاہرین تشدد کے دوران مدد کے لیے پکارنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ جب مستند ذرائع ابلاغ اور صحافیوں کو ڈیجیٹل چینلز سے کاٹ دیا جاتا ہے، تو تصدیق شدہ معلومات کی جگہ افواہیں اور غیر مصدقہ مواد لے لیتا ہے، جو معاشرے میں مزید انتشار کا باعث بنتا ہے۔
یونیسکو کا مطالبہ ہےکہ “حکومتیں ایسی پالیسیاں اپنائیں جو رابطوں میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو آسان بنائیں، کیونکہ یہ تعلیم، اجتماع کی آزادی اور سماجی و سیاسی زندگی میں شمولیت کے لیے ناگزیر ہے۔”
