میئر ممدانی کے مقابلے میں سٹی کونسل کی اپنی ‘اینٹی سیمیٹزم ٹاسک فورس’ کا اعلان

عوامی سماعتیں کرنا اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف ٹھوس سفارشات پیش کرنا۔

Atif Khan

نیویارک: سٹی کونسل کی اسپیکر جولی مینن نے جمعرات کو یہود دشمنی کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میئر ظہران ممدانی کی جانب سے اسی مقصد کے لیے بنائے گئے دفتر (Office to Combat Antisemitism) کے فعال ہونے میں غیر معمولی تاخیر دیکھی جا رہی ہے۔

اس ٹاسک فورس کی سربراہی مشترکہ طور پر ریپبلکن کونسل ممبر انّا ورنیکوف (Inna Vernikov) اور ڈیموکریٹ کونسل ممبر ایرک ڈینووٹز (Eric Dinowitz) کریں گے۔

اس میں سات کونسل ممبران اور ماہر عملہ شامل ہوگا۔ انّا ورنیکوف اس گروپ میں واحد ریپبلکن رکن ہوں گی۔اسپیکر جولی مینن اس ٹاسک فورس کو ‘سب پینا’ (Subpoena) یعنی لوگوں کو زبردستی طلب کرنے کے قانونی اختیارات دینے پر بھی غور کر رہی ہیں۔

اہم اہداف:
تعلیم اور کمیونٹی سیفٹی میں سرمایہ کاری کرنا۔

یہود دشمنی کے خلاف پانچ نکاتی قانون سازی کے منصوبے پر عمل درآمد۔

عوامی سماعتیں کرنا اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف ٹھوس سفارشات پیش کرنا۔

“نیویارک میں یہودی شہریوں کو دیگر تمام گروہوں کے مجموعے سے بھی زیادہ نفرت انگیز جرائم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سٹی کونسل اس بحران سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہے۔”

میئر ممدانی، جو اسرائیل کے سخت نقاد اور BDS تحریک کے حامی رہے ہیں، پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے اینٹی سیمیٹزم دفتر کے لیے تاحال کسی سربراہ کا تقرر نہیں کیا ہے۔ مزید برآں، یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ وہ اس عہدے کے لیے ایلاد نہورائی کا انٹرویو کر رہے ہیں، جو قدامت پسند یہودیت (Ultra-Orthodox Judaism) کے بڑے نقاد سمجھے جاتے ہیں، جس سے یہودی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *