نیویارک: نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے ایک نئے قانون کی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد مقامی پولیس کی ذمہ داریوں کو وفاقی امیگریشن حکام (ICE) کی کارروائیوں سے الگ رکھنا ہے۔
گورنر نے جمعہ کے روز “لوکل کاپس، لوکل کرائمز ایکٹ” (Local Cops, Local Crimes Act) ایکٹ کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس قانون کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مقامی پولیس اپنی تمام تر توجہ اور وسائل مقامی جرائم کے خاتمے پر صرف کرے، نہ کہ وفاقی ایجنسی (ICE) کے وسائل کے طور پر استعمال ہو۔
گورنر ہوکل کے اہم بیانات:
“ہم ایسی نئی کارروائیاں کر رہے ہیں جو ہماری کمیونٹیز کو وفاقی مداخلت سے محفوظ رکھیں گی۔”
“نیویارک کی پولیس کا کام نیویارک کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، ‘آئس’ (ICE) کا کام کرنا نہیں۔”
“عوام چاہتے ہیں کہ مقامی پولیس مقامی جرائم اور عوامی تحفظ کے حقیقی چیلنجز پر توجہ دے۔”
نئے قانون کے اہم نکات
تجویز کردہ قانون کے تحت درج ذیل پابندیاں عائد کی جائیں گی:
مقامی افسران امیگریشن قوانین نافذ کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔
وفاقی ایجنسی (ICE) مقامی جیلوں کو امیگریشن حراستی مراکز کے طور پر استعمال نہیں کر سکے گی۔
وفاقی ایجنٹوں کو وارنٹ کے بغیر اسکولوں اور گھروں میں داخل ہونے سے روکا جائے گا۔
گورنر نے یہ واضح کیا کہ یہ قانون خطرناک مجرموں کی تلاش میں وفاقی اداروں کی مدد کرنے سے مقامی پولیس کو نہیں روکے گا۔ انہوں نے اسے پالیسی میں تبدیلی کے بجائے “اختیارات کے غلط استعمال” کو روکنے کا ایک ذریعہ قرار دیا۔
نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹش نے اس تجویز کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی پولیس محکموں کو وفاقی امیگریشن ایجنٹوں میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے مقامی پولیسنگ کی تاثیر متاثر ہوتی ہے۔
