امریکہ میں تارکینِ وطن کےخلاف کریک ڈاؤن: اقوامِ متحدہ کااظہارِتشویش

والدین کو بچوں سے الگ کر دیا جاتا ہے اور انہیں اکثر یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے پیاروں کو کہاں منتقل کیا گیا ہے۔

Editor News

جنیوا(ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک نے ایک حالیہ بیان میں امریکہ میں تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو “تذلیل آمیز” قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔

ہائی کمشنر کے مطابق، قانونی دستاویزات نہ رکھنے والے افراد کو اسپتالوں، عبادت گاہوں، عدالتوں، اسکولوں اور یہاں تک کہ ان کے گھروں سے گرفتار اور حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ:

ان کارروائیوں کی وجہ سے کمیونٹیز میں خوف پھیلا ہوا ہے، بچے اس ڈر سے اسکول نہیں جا رہے کہ ان کے والدین واپس نہیں آئیں گے۔پرامن احتجاج کرنے والوں کو دھمکایا جاتا ہے اور بعض اوقات ان کے خلاف غیر ضروری طاقت اور تشدد کا استعمال کیا جاتا ہے۔

وفاقی ایجنسی ‘ICE’ کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں اکثر انفرادی جانچ پڑتال اور قانونی تقاضوں (Due Process) سے عاری ہوتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان آپریشنز کے دوران جانی نقصانات بھی ہو رہے ہیں:

7 جنوری 2026 کو منیا پولس میں ایک وفاقی آپریشن کے دوران ایک خاتون گولی لگنے سے ہلاک ہو گئی۔گزشتہ سال ‘ICE’ کی تحویل میں کم از کم 30 اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ اس سال اب تک مزید 6 اموات ہو چکی ہیں۔

والدین کو بچوں سے الگ کر دیا جاتا ہے اور انہیں اکثر یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے پیاروں کو کہاں منتقل کیا گیا ہے۔

وولکر ترک نے امریکی حکام کی جانب سے استعمال کیے جانے والے “غیر انسانی بیانیے” کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ تارکینِ وطن کو مجرم یا معاشرے پر بوجھ بنا کر پیش کرنا انسانیت کے خلاف اور امریکہ کی اپنی بنیادوں کے منافی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکہ کی تاریخ تارکینِ وطن کی قربانیوں اور محنت سے عبارت ہے۔

ہائی کمشنر نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خاندانوں کو الگ کرنے کے عمل کو روکے اور حراست میں ہونے والی اموات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرائے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *