اقوامِ متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کا انتخاب کیسےہوگا؟

اگرچہ اس وقت کوئی مسلم خاتون باضابطہ امیدوار نہیں، تاہم اقوامِ متحدہ میں کئی مسلم خواتین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں،

Editor News

نیویارک: اقوامِ متحدہ جنوری 2027 میں اپنے دسویں سیکریٹری جنرل کے انتخاب کی تیاری کر رہا ہے۔ عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے بعد کون ان کی جگہ لے گا اور یہ انتخاب اس عالمی ادارے کی ترجیحات، ساکھ اور بڑھتے ہوئے عالمی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کے بارے میں کیا پیغام دے گا۔

25 نومبر 2025 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور نے مشترکہ طور پر تمام 193 رکن ممالک کو خط لکھ کر سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے امیدوار نامزد کرنے کی دعوت دی۔ اس خط میں ماضی کے برعکس واضح طور پر رکن ممالک کو ایک خاتون امیدوار نامزد کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی، ساتھ ہی علاقائی تنوع کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

خط میں کہا گیا:
“اس بات پر افسوس کے ساتھ کہ آج تک کوئی خاتون سیکریٹری جنرل نہیں بن سکیں، اور اس یقین کے ساتھ کہ اعلیٰ فیصلہ ساز عہدوں تک خواتین اور مردوں کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں، رکن ممالک کو سختی سے ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ خواتین کو امیدوار کے طور پر نامزد کرنے پر غور کریں۔”

اقوامِ متحدہ کی 80 سالہ تاریخ میں اب تک تمام نو سیکریٹری جنرل مرد رہے ہیں، جسے ناقدین اور سفارتکار عالمی سفارت کاری کی اعلیٰ ترین سطح پر صنفی عدم مساوات کی واضح علامت قرار دے رہے ہیں۔

صنفی مساوات کی جانب تاریخی لمحہ
2025 کے دوران اقوامِ متحدہ کی قیادت ایک خاتون کے حوالے کرنے کی آوازیں مزید بلند ہو گئی ہیں۔ 80ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں متعدد عالمی رہنماؤں نے اس مطالبے کی حمایت کی۔ ایسٹونیا کے صدر الار کاریس نے کہا کہ “اب وقت آ گیا ہے کہ ایک خاتون کو اقوامِ متحدہ کا سیکریٹری جنرل منتخب کیا جائے”، جبکہ سلووینیا کی صدر ناتاشا پیرک موسار نے کہا: “اس اجلاس کے اختتام تک ہمیں ایک خاتون سیکریٹری جنرل منتخب ہوتی دیکھنی چاہیے۔”

کوسٹا ریکا کی جانب سے اکتوبر 2025 میں نامزد کی جانے والی ریبیکا گرینسپین نے بھی اس بیانیے کو بھرپور انداز میں اپنایا۔ انہوں نے رائٹرز کو انٹرویو میں کہا:“ہم خصوصی سلوک نہیں مانگ رہے، ہم صرف عدم امتیاز اور مساوی سلوک چاہتے ہیں۔ اگر برابری قائم ہو جائے تو ہم اس مقام تک ضرور پہنچ سکتے ہیں۔”

غزہ، ادارہ جاتی ساکھ اور اعتماد کا بحران
خاتون سیکریٹری جنرل کے مطالبے کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کی ساکھ بھی شدید بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، خاص طور پر غزہ کے بحران پر ادارے کے ردِعمل کے حوالے سے۔ 80ویں جنرل اسمبلی میں کئی عالمی رہنماؤں نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے غزہ کی صورتحال کو “اقوامِ متحدہ کی تاریخ کے تاریک ترین لمحات میں سے ایک” قرار دیا، جبکہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے عالمی اداروں پر شہریوں کے تحفظ میں ناکامی کا الزام لگایا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگلے سیکریٹری جنرل کے انتخاب میں یہ عوامل بھی اہم ہوں گے، اور بہت سے سفارتکار سمجھتے ہیں کہ صنفی نمائندگی، بالخصوص انسانی ہمدردی اور شمولیت سے جڑی قیادت، عوامی اعتماد کی بحالی میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

سلامتی کونسل، ویٹو پاور اور بڑی طاقتیں
اگرچہ ایک خاتون کی تقرری کے حق میں عالمی حمایت بڑھ رہی ہے، تاہم حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کی سیاست پر منحصر ہوگا۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 97 کے تحت سیکریٹری جنرل کا تقرر جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل کی سفارش پر کرتی ہے، جہاں پانچ مستقل ارکان — امریکہ، چین، روس، برطانیہ اور فرانس — ویٹو کا اختیار رکھتے ہیں۔

اکتوبر 2025 میں امریکی نائب سفیر ڈوروتھی شے نے کہا کہ اگلا سیکریٹری جنرل “صرف میرٹ کی بنیاد پر” منتخب ہونا چاہیے اور امیدواروں کا تعلق تمام علاقائی گروپس سے ہونا چاہیے۔ یہ مؤقف ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت امریکہ اقوامِ متحدہ میں اصلاحات اور اپنی ترجیحات کے مطابق قیادت چاہتا ہے۔

دوسری جانب روس کے سفیر واسیلی نبینزیا نے واضح کیا کہ “میرٹ، جنس سے پہلے آتا ہے” اور علاقائی گردش کی روایت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ چین نے حالیہ مہینوں میں عندیہ دیا ہے کہ وہ خواتین امیدواروں کا خیرمقدم کرے گا، تاہم وہ بھی علاقائی گردش کے اصول کو برقرار رکھنے کا حامی ہے۔

علاقائی گردش اور لاطینی امریکہ
غیر تحریری مگر طاقتور روایت کے مطابق سیکریٹری جنرل کا عہدہ مختلف خطوں کے درمیان گردش کرتا رہا ہے۔ انتونیو گوتریس کے بعد لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے کی باری سمجھی جا رہی ہے۔ چلی کے صدر گیبریل بورک نے مشیل باشیلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے “لاطینی امریکہ کا لمحہ” قرار دیا۔

کوسٹا ریکا کی جانب سے ریبیکا گرینسپین کی نامزدگی بھی اسی علاقائی اور صنفی تنوع کے بیانیے کو مضبوط کرتی ہے۔

مسلم خاتون امیدوار: ایک ممکنہ مگر غیر واضح راستہ
اگرچہ اس وقت کوئی مسلم خاتون باضابطہ امیدوار نہیں، تاہم اقوامِ متحدہ میں کئی مسلم خواتین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، جو اس امکان کو تقویت دیتی ہیں۔ ان میں نائب سیکریٹری جنرل امینہ جے محمد، اقوامِ متحدہ کی الائنس آف سیولائزیشنز کی ڈائریکٹر نہال سعد اور سابق سربراہ یو این ہیبی ٹیٹ میمونہ محمد شریف شامل ہیں۔

فیصلہ کن لمحہ
ماہرین کے مطابق 2026 میں خفیہ رائے شماری (اسٹرا پولز) کے آغاز کے ساتھ ہی طاقت کے توازن اور ممکنہ ویٹو واضح ہو جائیں گے۔ یہ مقابلہ صرف ایک عہدے کے انتخاب کا نہیں، بلکہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا اقوامِ متحدہ بدلتی دنیا میں خود کو مؤثر، جامع اور قابلِ اعتماد عالمی ادارہ بنا سکتی ہے یا نہیں۔

ایک خاتون، بالخصوص مسلم خاتون، کا انتخاب نہ صرف تاریخی ہوگا بلکہ دنیا بھر میں صنفی مساوات اور عالمی سفارت کاری میں تنوع کے لیے ایک طاقتور علامت بن سکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *