پیرس(ویب ڈیسک): فرانسیسی وزیر کھیل مرینا فراری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ کھیل اس عظیم عالمی مقابلے سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
مرینا فراری نے کہا، “فی الحال بائیکاٹ کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ میں مستقبل کی پیشگوئی تو نہیں کر سکتی، لیکن میرا ماننا ہے کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ ورلڈ کپ کھیلوں کے شائقین کے لیے ایک انتہائی اہم موقع ہے۔”
فرانس کے بائیں بازو کے رہنما ایرک کوکریل نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکہ سے ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق واپس لیے جائیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فرانس کو ایسے ملک میں کھیلنا چاہیے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ‘گرین لینڈ’ کے حوالے سے ایک معاہدے کا ذکر کیا تھا، جس سے یورپی ممالک اور امریکہ کے درمیان سفارتی تناؤ پیدا ہوا ہے۔
صرف فٹ بال ہی نہیں بلکہ ونٹر اولمپکس کے حوالے سے بھی امریکہ پر تنقید کی جا رہی ہے۔ وینزویلا میں امریکی مداخلت پر آئی او سی (IOC) سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی ایتھلیٹس پر پابندی لگائی جائے، تاہم کمیٹی نے اسے مسترد کر دیا:
“ہم ایک عالمی تنظیم کے طور پر سیاسی معاملات یا ممالک کے درمیان تنازعات میں براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتے۔ ہمارا کام دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو متحد کرنا ہے۔”
