آمنہ محمدکاانتباہ: “عالمی قوانین کی پاسداری کریں ورنہ قیمت چکانےکےلیےتیاررہیں”

انہوں نے کہا کہ آج چھوٹے ممالک ہی چارٹر کی اصل حفاظت کر رہے ہیں

Editor News

کوپن ہیگن(ویب ڈیسک): ڈنمارک کی پارلیمان (Folketing) سے خطاب کرتے ہوئے آمنہ محمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کا بنیادی چارٹر صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ انسانی وقار اور عالمی انصاف کی بنیاد ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آج کل “خطرناک ماضی کی یادوں” (Dangerous Nostalgia) کے نام پر بین الاقوامی تعاون کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی سے قوانین کی تشریح کرنا چاہتے ہیں۔

کلیدی نکات اورعالمی انتباہ
آمنہ محمد نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر کوئی “آ لا کارٹے مینو” (à la carte menu) نہیں ہے کہ جس میں سے ممالک اپنی پسند کے قوانین چنیں اور باقی کو نظر انداز کر دیں۔

وینزویلا اور گرین لینڈ کی مثال: انہوں نے ایک سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا، “یا تو آپ اصولوں پر مبنی عالمی نظام کے لیے کھڑے ہوں، یا اسے نظر انداز کرنے کی قیمت چکائیں۔ کل یہ قیمت وینزویلا نے چکائی، کل کو شاید یہ گرین لینڈ کی باری ہو۔”

چھوٹے ممالک کا کردار: انہوں نے کہا کہ آج چھوٹے ممالک ہی چارٹر کی اصل حفاظت کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر قانون کمزور کا تحفظ نہیں کرے گا، تو وہ کسی کا تحفظ نہیں کر پائے گا۔

علاقائی خودمختاری: انہوں نے یوکرین کی سالمیت اور اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان بنیادوں پر حملے ہو رہے ہیں۔

ترقیاتی اور معاشی تفاوت
نائب سیکرٹری جنرل نے عالمی مالیاتی نظام میں موجود تضادات پر بھی کڑی تنقید کی:

فوجی اخراجات بمقابلہ ترقی: گزشتہ برس عالمی سطح پر فوجی اخراجات 2.7 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جبکہ بنیادی ترقیاتی ضروریات کے لیے 4.2 ٹریلین ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔

دولت کا ارتکاز: انہوں نے ڈیووس (Davos) میں ہونے والے اجتماعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارب پتیوں کی دولت میں 2 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ انسانیت کا غریب ترین آدھا حصہ عالمی دولت کے صرف 2 فیصد کا مالک ہے۔

آمنہ محمد نے اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ’UN80 اقدام‘ کا ذکر کیا۔ اس کا مقصد اقوام متحدہ کو ایک ایسے عالمی ادارے میں تبدیل کرنا ہے جو محدود وسائل کے باوجود بدلتی ہوئی دنیا کی ضروریات کے مطابق موثر انداز میں کام کر سکے۔ انہوں نے ڈنمارک سمیت تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ ایک جدید اور اصلاح شدہ اقوام متحدہ کی قیادت کریں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *