نیویارک/کاونو: ہولوکاسٹ کی یاد کے عالمی دن کے موقع پر ایک ایسی تصویر نے دنیا کی توجہ پھر سے اپنی جانب مبذول کر لی ہے جو نہ صرف نازیوں کے ظلم کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ ایک چچا کی اپنی بھتیجوں سے بے پناہ محبت اور انسانیت کو محفوظ رکھنے کی تڑپ کا ثبوت بھی ہے۔
یہ تصویر فروری 1944 کی ہے، جس میں لیتھوانیا کے ‘کاونو گیٹو’ (Kovno ghetto) میں دو سالہ ایمانوئل روزنتھل اور اس کا پانچ سالہ بھائی اورام نظر آ رہے ہیں۔ تصویر میں ان معصوم بچوں کے لباس پر وہ مخصوص بیج (Badges) نمایاں ہیں جو نازیوں نے یہودیوں کی شناخت اور انہیں الگ تھلگ کرنے کے لیے لازمی قرار دیے تھے۔

ان بچوں کے چچا، شراگا وینر نے اپنے ایک ساتھی قیدی جارج کادیش سے ان بچوں کی تصویر اتارنے کی فرمائش کی تھی۔ اس تصویر کے کھینچے جانے کے چند ہفتوں بعد، 27 اور 28 مارچ 1944 کو نازی فوجیوں نے گیٹو میں موجود 12 سال سے کم عمر کے تمام بچوں، بیماروں اور بوڑھوں کو گرفتار کر لیا۔ اس وحشیانہ کارروائی میں ان دونوں معصوم بھائیوں سمیت 1,300 افراد کو یا تو گولی مار دی گئی یا کسی نامعلوم مقام پر لے جا کر قتل کر دیا گیا۔
خوش قسمتی سے بچوں کے چچا شراگا وینر اور فوٹوگرافر جارج کادیش ہولوکاسٹ میں زندہ بچ گئے۔ جنگ کے بعد، کادیش نے اس تصویر کی ایک کاپی وینر کو فراہم کی۔ یہ تصویر آج بھی محفوظ ہے اور نازیوں کی جانب سے انسانیت کو مٹانے کی کوششوں کے خلاف ایک خاموش احتجاج کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔
